حدیث نمبر: 22924
٢٢٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن إسماعيل عن الشعبي في رجل اشترى عبدًا فأعتقه ثم وجد به جنونًا، قال: إن كان الداء قبل الصفقة رد البائع على المشتري فضل ما بين الصحة والداء ويجعل ما أخذ في مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص غلام خرید کر اس کو آزاد کر دے پھر وہ غلام مجنون نکلے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اگر یہ بیماری معاملے سے پہلے کی تھی تو بائع مجنون غلام اور صحیح غلام کی قیمت میں سے جو فرق ہے وہ مشتری کو واپس کرے گا، اور جو اس نے لیا ہے اس کو اسی کے مثل میں رکھے گا۔
حدیث نمبر: 22925
٢٢٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل ⦗١٠٨⦘ اشترى عبدا فأعتقه ثم ظهر به داء كان عند البائع، قال: (كان) (١) يوجبه عليه ولا يرد البائع شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو غلام خرید کر آزاد کر دے پھر اس کو پتہ لگے کہ اس میں بیماری ہے جو بائع کے پاس سے چلی آرہی تھی، تو وہ غلام اس پر لینا واجب ہوگا اور بائع پر کچھ بھی واپس لٹانا واجب نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 22926
٢٢٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر (عن معمر) (١) عن الزهري قال: كان يرى أن يحط عنه بقدر العيب إذا (٢) وجد بها داء بعد الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ عیب کی بقدر ثمن کم کرنے کے قائل تھے جبکہ اس کی موت کے بعد بیماری کا پتہ لگے۔
حدیث نمبر: 22927
٢٢٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن ابن جريج عن عطاء قال: لا عهدة بعد الموت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ مرنے کے بعد کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔