حدیث نمبر: 22879
٢٢٨٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن محمد بن قيس عن محمد بن عبيد اللَّه أبي عون الثقفي عن (عمر وعلي) (١) (قالا) (٢): إذا أسلم وله أرض، وضعنا عنه الجرية وأخذنا منه خراجها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب کافر مسلمان ہوجائے اور اس کے پاس زمین بھی ہو ، تو ہم اس سے جزیہ ختم کردیں گے اور اس سے خراج لیں گے۔
حدیث نمبر: 22880
٢٢٨٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن سيار عن الزبير بن عدي أن دهقانًا أسلم على عهد علي فقال له علي: إن أقمت في أرضك رفعنا الجرية عن ⦗٩٨⦘ رأسك وأخذناها من أرضك، وإن تحولت عنها فنحن أحق بها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زبیر بن عدی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں ایک کسان مسلمان ہوا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : اگر تو اپنی زمین پر قائم رہتا ہے تو ہم تیرے اوپر سے جزیہ ختم کردیں گے، اور تیری زمین سے (خراج) لیں گے، اور اگر تو اس سے پھرتا ہے تو ہم لوگ اس زمین کے زیادہ حقدار ہیں۔
حدیث نمبر: 22881
٢٢٨٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن حصين أن رجلين من أهل أليس (١) أسلما في عهد عمر فأتيا عمر فاخبراه بإسلامهما، فكتب (لهما) (٢) إلى عثمان بن حنيف أن يرفع الجزية عن رؤوسهما وأن يأخذ الطسق (٣) من أرضيهما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین سے مروی ہے کہ اہل الیس میں سے دو شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مسلمان ہوئے، اور وہ دونوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے اسلام لانے کے متعلق آپ کو آگاہ کیا، آپ نے ان دونوں کے متعلق حضرت عثمان بن حنیف رحمہ اللہ کو لکھا کہ ان سے جزیہ ختم کرو اور ان کی زمین سے خراج وصول کرو۔
حدیث نمبر: 22882
٢٢٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب أن دهقانة من (١) نهر الملك أسلمت، فقال: عمر أدفعوا إليها (أرضها) (٢) (تؤدي) (٣) (عنها) (٤) الخراج (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق سے مروی ہے کہ نہر ملک ( بغداد) کا ایک کسان مسلمان ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اس کو زمین دے دو اور اس سے خراج وصول کرو۔
حدیث نمبر: 22883
٢٢٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب أن دهقانة أسلمت (من نهر الملك) (١) فكتب عمر أن خيروها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہر ملک کا ایک کسان مسلمان ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تحریر فرمایا : اس کو جزیے اور خراج کے مابین اختیار دے دو ۔
حدیث نمبر: 22884
٢٢٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر أن الرفيل دهقان النهرين أسلم، ففرض له عمر في ألفين (١)، ورفع عن رأسه (الجرية) (٢) ودفع إليه أرضه يؤدي عنها الخراج (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے مروی ہے کہ نہرین کا ایک کسان رفیل مسلمان ہوگیا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے دو ہزار مقرر فرمایا اور اس سے جزیہ ختم فرمایا اور اس کو اس کی زمین دے دی اور اس سے خراج وصول فرمایا۔
حدیث نمبر: 22885
٢٢٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن قال: سألت عبيد (اللَّه) (١) بن عمر عمن أسلم [من أهل السواد (فقال: من أسلم من أهل السواد) (٢) ممن له ذمة فله أرضه وماله، ومن أسلم] (٣) ممن لا ذمة له وإنما أخذه عنوة فارضه للمسلمين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ اہل عراق میں سے اگر کوئی مسلمان ہوجائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اہل عراق میں سے اگر وہ مسلمان ہو جو ہمارے ذمہ میں ہیں ، تو اس کی زمین اور اس کا مال اسی کا ہوگا، اور وہ مسلمان ہو پر جو ہمارے ذمہ میں نہیں ہے جو زمین ہم نے جبراً ( جہاد کر کے ) فتح کی تھی تو تو وہ زمین مسلمانوں کے لئے ہوگی۔ حضرت عبیداللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یہ مسئلہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے مکتوب میں پڑھا تھا۔
حدیث نمبر: 22886
٢٢٨٨٦ - قال عبيد اللَّه: قرأت هذا في كتاب عمر بن عبد العزيز.
حدیث نمبر: 22887
٢٢٨٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد عن حسن عن منصور عن إبراهيم قال: إذا أسلم الرجل من أهل السواد ثم أقام في أرضه أُخذ منه الخراج، فإن خرج منها لم يؤخذ منه الخراج.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر اہل ِ عراق میں سے کوئی شخص مسلمان ہوجائے پھر اگر وہ اپنی زمین پر قائم رہے تو اس سے خراج وصول کیا جائے گا۔ اور اگر وہ اس زمین سے نکل جائے تو اُ س سے خراج نہیں وصول کیا جائے گا۔