حدیث نمبر: 22851
٢٢٨٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن ابن سيرين قال: كان لا يرى بأسًا بثمن الهر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ بلی کی ثمن میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22852
٢٢٨٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ليث عن مجاهد وطاوس أنهما كرها ثمن السنور، وبيعه، وأكل لحمه، وأن ينتفع يحلده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ بلی کی قیمت کو اس کے فروخت کرنے کو اس کے گوشت کھانے کو اور اس کی کھال سے نفع اٹھانے کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22853
٢٢٨٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة، قال: سألت الحكم وحمادا عن ثمن السنور فقالا: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے بلی کی قیمت کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22854
٢٢٨٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن أبي حرة عن الحسن في رجل اشترى هرًا، فقال: لا بأس بشرائه، (وكره) (١) ثمنه للبائع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے متعلق فرمایا جس نے بلی خریدی آپ نے فرمایا اس کے خریدنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن بائع کے لئے اس کی قیمت مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 22855
٢٢٨٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي حنيفة قال: سألت عطاء عنه فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا اس میں کوئی حر ج نہیں۔
حدیث نمبر: 22856
٢٢٨٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش قال: أرى (أبا) (١) سفيان ذكره عن جابر قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن ثمن الهر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کی قیمت سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 22857
٢٢٨٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن أبي (المهزم) (١) عن أبي هريرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ بلی کو فروخت کر کے اس کی قیمت کو وصول کرنے کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22858
٢٢٨٥٨ - وعن أبي الزبير (عن جابر) (١) أنهما كرها ثمن الهر (٢).