حدیث نمبر: 22817
٢٢٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر (بن عياش) (١) عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره أن يعطي الرجل مالًا مضاربة على أن يعطيه (بضاعة) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اس کو ناپسند سمجھتے تھے کہ کوئی شخص کسی کو اس شرط پر مال مضاربت دے کہ وہ اس کو کوئی سامان دے دے ۔
حدیث نمبر: 22818
٢٢٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي (رواد) (١) عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ بھی اس کو مکروہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22819
٢٢٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن أشعث عن الحسن أنه سئل عن رجل دفع إلى رجل مالا مضاربة واشترط عليه بضاعة أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کسی شخص کو اس شرط پر مال مضاربت دینا کہ وہ سامان دے دے ؟ آپ رحمہ اللہ نے اس کو ناپسند سمجھا۔ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22820
٢٢٨٢٠ - وكان ابن سيرين لا يرى به بأسًا.
حدیث نمبر: 22821
٢٢٨٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن محمد بن سيرين أنه ⦗٨٥⦘ كان لا يرى بأسًا أن يدفع الرجل إلى الرجل مالا مضاربة على أن (يجعل) (١) له بضاعة أو يعمل له عملًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کو مال مضاربت دے اور اس پر سامان کی یا کام کرنے کی شرط لگائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔