کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: رہن اگر کسی عادل شخص کے قبضہ میں ہو تو کیا وہ مقبوضہ شمار ہوگا؟
٢٢٨١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن الحارث.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث اور حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ کسی عادل شخص کے قبضہ میں ہو تو پھر اس کے رہن ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
٢٢٨١٣ - وعن أشعث عن الحكم، أنهما كانا لا يريان بأسا بالرهن إذا كان على يدي عدل مقبوضًا.
٢٢٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر وأشعث عن الشعبي قال: هو رهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ رہن ہے۔
٢٢٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أشعث عن الحكم قال: لا يكون (رهنًا) (١) حتى (يقبضه) (٢) صاحبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک اس کا صاحب اس پر قبضہ (وصول نہ ہوجائے) نہ کرلے وہ رہن شمار نہ ہوگا۔
٢٢٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن سالم عن سعيد أنه قرأها: ﴿فَرِهَانٌ مَقْبُوضَةٌ﴾ [البقرة: ٢٨٣]، قال: لا يكون الرهن إلا مقبوضًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعیدنے قرآن پاک کی آیت فَرھَانٌ مقبوضۃٌ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا : جب تک وصول نہ ہوجائے رہن شمار نہ ہوگا۔