حدیث نمبر: 22778
٢٢٧٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام بن عروة قال: أخبرني أبي أن (ناسًا) (١) من (٢) فهم خاصموا (ناسًا) (٣) من (بني) (٤) سليم في معدن لهم إلى مروان، (فأمر) (٥) مروان ابن الزبير أن يقضي بينهم، (فاستوت) (٦) الشهود فأقرع بينهم عبد اللَّه، فجعله لمن أصابته القرعة من أجل أن الشهود استوت (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ قبیلہ فھم اور قبیلہ بنو سلیم کے لوگوں کے آپس میں ایک کان کے بارے میں جھگڑا ہوگیا، وہ لوگ اپنا جھگڑا لے کر مروان کے پاس چلے گئے، مروان نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ ان کے درمیان فیصلہ فرما دیں، جب فیصلہ کرنے لگے تو دونوں طرف سے گواہیاں برابر قائم ہوگئیں، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور دونوں طرف سے گواہیوں کے قائم ہونے کی وجہ سے قرعہ میں جس کا نام نکلا اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 22779
٢٢٧٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر وابن أبي زائدة عن حجاج عن حماد عن إبراهيم قال: إذا استوت البينتان فهي (للذي) (١) في أيديهم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر دونوں طرف سے گواہیاں قائم ہوجائیں تو چیز پر جس کا قبضہ ہوگا اسی کا حق شمار ہوگا۔
حدیث نمبر: 22780
٢٢٧٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري، أنه قال في القوم إذا اختلفت شهادتهم واستووا في التعديل والعدد: فاليمين على من ادُّعي عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی قوم میں گواہوں کا اختلاف ہوجائے اور وہ گواہ تعدیل اور تعداد میں برابر ہوجائیں تو پھر مدعی علیہ پر قسم ہوگی۔