کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص بھگوڑے غلام کو پکڑ لے پھر وہ اُس کے پاس سے بھی بھاگ جائے
حدیث نمبر: 22639
٢٢٦٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع عن) (١) سفيان عن (حزن) (٢) بن ⦗٤٢⦘ (بشير) (٣) عن (جابر) (٤) بن الحارث أن رجلًا اجتعل في عبد آبق فأخذه ليرده فأبق منه، فخاصمه إلى شريح فضمنه، فبلغ ذلك عليًا فقال: أساء القضاء، يحلف باللَّه لأبق منه، ولا ضمان عليه (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص نے بھگوڑے غلام کو پکڑ لیا تاکہ اس کے آقا کو واپس کرسکے، وہ غلام اس کے پاس سے بھی بھاگ گیا، وہ دونوں جھگڑتے ہوئے حضرت شریح کے پاس آئے، آپ نے اس شخص کو ضامن بنادیا، جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس فیصلہ کی اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا قاضی نے غلطی کی، وہ اس سے قسم اٹھواتا کہ وہ اس سے بھاگ گیا ہے اور اس پر ضمان نہیں ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22639
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22639، ترقيم محمد عوامة 21726)
حدیث نمبر: 22640
٢٢٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر وعبدة ووكيع عن ابن أبي خالد عن الشعبي في رجل أخذ عبدًا آبقا ليرده، فذهب منه، قال: ليس عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص بھگوڑا واپس کرنے کے لئے پکڑے اور وہ غلام اس کے پاس سے بھی بھاگ جائے تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22640
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22640، ترقيم محمد عوامة 21727)
حدیث نمبر: 22641
٢٢٦٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد [(القطان) (١) عن أشعث عن الحسن قال: ليس عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22641
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22641، ترقيم محمد عوامة 21728)
حدیث نمبر: 22642
٢٢٦٤٢ - حدثنا أبو بكر] (١) قال: حدثنا أبو معاوية عن الشيباني عن الشعبي عن شريح أن رجلًا أخذ عبدًا آبقا فأبق منه، قال: فجاء مولى العبد فقدمه إلى شريح فقال شريح: قد أبق منك قبله، (فليس) (٢) عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بھگوڑا غلام پکڑا تو وہ اس کے پاس بھی بھاگ گیا، غلام کا آقا آیا اور دونوں کا مقدمہ حضرت شریح کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : غلام اس سے پہلے ہی تیرے پاس سے بھاگا تھا لہٰذا اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22642
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22642، ترقيم محمد عوامة 21729)
حدیث نمبر: 22643
٢٢٦٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج قال: قال لي ابن (أبي) (١) مليكة: إن ذهب منه فليس عليه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی ملیکۃ نے مجھ سے فرمایا اگر بھگوڑا غلام اس کے پاس سے بھی بھاگ جائے تو اس پر کچھ لازم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22643
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22643، ترقيم محمد عوامة 21730)
حدیث نمبر: 22644
٢٢٦٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن قتادة وأبي هاشم ومنصور، (قالوا) (١): إن فر من الذي أخذه فليس عليه ضمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ، حضرت ہاشم اور منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس نے بھگوڑے غلام کو پکڑا ہے اس سے بھی غلام اگر بھاگ جائے تو اس پر کچھ لازم نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22644
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22644، ترقيم محمد عوامة 21731)