حدیث نمبر: 22623
٢٢٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن عبد الملك عن عطاء عن جابر قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "الشفيع أحق بشفعة جاره، ينتظر بها وإن كان غائبًا إذا كانت (طريقهما واحدة) (١) " (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شفیع پڑوسی پر شفعہ کرنے کا زیادہ حق دار ہے، اگر ان دونوں کا راستہ ایک ہو اور شفیع غائب ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 22624
٢٢٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني (١) عن عمر بن عبد العزيز أنه قضى بالشفعة للشريك بعد عشر سنين، وكان غائبًا صاحبها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے دس سال بعد شریک کے لئے شفعہ کا فیصلہ فرمایا، اس کا شریک (ساتھی) غائب تھا۔
حدیث نمبر: 22625
٢٢٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي عدي عن أشعث عن الحسن قال: كان يرى الشفعة للصغير والغائب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ بچے اور غائب کے لئے شفعہ کا حق سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22626
٢٢٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) بن صالح عن مطرف عن شريح في الدار تبتاع، (ولها) (٢) شفيع غائب أو صغير، قال: الغائب أحق بالشفعة حتى يرجع، والصغير حتى يكبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر گھر فروخت ہو اور اس کا شفیع غائب ہو یا چھوٹا ہو تو غائب واپس آنے تک شفعہ کا زیادہ حق دار ہے اور چھوٹا بچہ بڑا ہونے تک حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 22627
٢٢٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (جرير) (١) عن مغيرة عن إبراهيم قال: ليس لغائب شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اور حضرت حارث فرماتے ہیں کہ غائب کے لئے شفعہ کا حق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22628
٢٢٦٢٨ - وكان الحارث يرى ذلك.
حدیث نمبر: 22629
٢٢٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا) (١) سفيان عن جابر عن الشعبي (والحكم قالا) (٢): للغائب شفعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں غائب کے لئے شفعہ کا حق ہے۔
حدیث نمبر: 22630
٢٢٦٣٠ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن عن مجالد عن الشعبي قال: للغائب شفعة، تكتب إليه، فإن أخذ وبعث بالثمن وإلا فلا شفعة له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غائب کے لئے شفعہ کا حق ہے۔ اس کو خط لکھا جائے گا، اگر وہ شفعہ کو قبول کرے اور گھر کا ثمن بھیج دے تو ٹھیک وگرنہ اس کے لئے شفعہ نہیں ہے۔ ( حق ختم ہوجائے گا۔ )