کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص سامان یا غلام خریدے پھر اُس کے بعض حصہ میں عیب پائے
حدیث نمبر: 22607
٢٢٦٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم عن القاسم ابن عبد الرحمن أنه كان يقول في الرجل يشتري المتاع فيجد (ببعضه) (١) عيبًا قال: يأخذه كله، أو يرده كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبد الرحمن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو سامان خریدے پھر اس کے کچھ حصہ میں عیب پائے تو وہ پورا سامان رکھ لے یا پورا واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 22608
٢٢٦٠٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد (عن سفيان) (١) عن الشيباني عن عامر في الرجل يشتري المتاع فيجد (ببعضه) (٢) عيبًا قال: يأخذه كله أو يرده كله] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو سامان خریدے پھر اس کے کچھ حصہ میں عیب پائے تو وہ پورا سامان رکھ لے یا پورا واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 22609
٢٢٦٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث العكلي قال: إذا اشترى الرجل الغلامين (أو) (١) السلعتين، فوجد (بأحدهما) (٢) عيبًا، فأراد ردها ردها بقيمتها، وجازت عليه التي ليس (بها) (٣) عيب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث عکلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دو غلام یا دو مختلف سامان خریدے پھر ان میں سے ایک میں عیب پائے، اور اس کو واپس کرنا چاہے تو اس کی قیمت کے ساتھ واپس کرسکتا ہے، اور جس میں عیب نہیں ہے اس میں بیع درست ہوگی۔
حدیث نمبر: 22610
٢٢٦١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن في الرجل يشتري العبيد فيجد ببعضهم عيبًا، فقال: يرد بقيمته وفي المتاع مثله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کچھ غلام خریدے پھر ان میں سے بعض میں عیب ہو تو اس کی قیمت کے ساتھ واپس کر دے اور سامان میں بھی اسی طرح کرے گا۔
حدیث نمبر: 22611
٢٢٦١١ - وقاله محمد.
حدیث نمبر: 22612
٢٢٦١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن الشيباني عن شريح في الرجل يشتري المتاع صفقة فيجد ببعضه عيبًا قال: يأخذه جميعًا (أو يرده جميعًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک ہی معاملہ میں بہت سا سامان خریدے، پھر بعض میں عیب پائے تو وہ سارا رکھ لے یا سارا واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 22613
٢٢٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن أشعث عن عامر وابن سيرين قالا: إذا ابتاع الرجل بيع حكرة، فرأى فيه (عيبًا) (١) قالا: يرده كله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر و ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایک ساتھ کچھ چیزیں خریدے اور ان میں سے کچھ میں عیب دیکھے تو وہ سارا واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 22614
٢٢٦١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن رجل عن عطاء (في) (١) رجل اشترى متاعا فوجد ببعضه عيبًا، قال: يرده (ويلزمه) (٢) ما بقي بالقيمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سامان خریدے پھر اس کے کچھ حصہ میں عیب ہو تو اس حصے کو واپس کر دے۔
حدیث نمبر: 22615
٢٢٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن ليث عن حجاج بن يسار أن رجلًا اشترى من رجل (أزقاقًا) (١) من سمن ونقد صاحبه، فنقصت الزقاق فأراد أن يقاصه ببعض الدراهم، فقال ابن عمر: خذ بيعك جميعًا أو رده جميعًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج سے مروی ہے کہ ایک شخص نے گھی کے مشکیزے خریدے اور پیسے نقد ادا کر دئیے ، پھر کچھ مشکیزے کم نکلے، تو اس نے ارادہ کیا کہ اس کی کمی کچھ دراہم سے دور کرے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : اگر بیع کرنی ہے تو پوری کرو وگرنہ پوری چھوڑ دو ۔