حدیث نمبر: 22570
٢٢٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين عن مجاهد عن رافع بن خديج قال: (نهانا) (١) رسول اللَّه ﷺ عن أمر كان ⦗٢٥⦘ لنا نافعًا، (نهانا) (٢) إذا (كانت) (٣) لأحدنا أرض إن يعطيها ببعض (خراجها) (٤) بثلث أو نصف، وقال: "من كانت له أرض فليزرعها أو ليمنحها أخاه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے کام سے منع فرمایا ہے جس میں صرف ہمیں نفع ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی کی زمین ہو اور وہ اس کو مزارعۃ بالثلث، یا ربع پر کسی کو دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کی زمین ہو وہ اس میں خود کھیتی باڑی کرے یا اپنے کسی بھائی کے لئے چھوڑ دے۔
حدیث نمبر: 22571
٢٢٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن عبد اللَّه ابن (السائب) (١) قال: سألت ابن (معقل) (٢) عن المزارعة فقال: أخبرني ثابت بن الضحاك أن رسول اللَّه ﷺ نهى عنها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن معقل سے مزارعۃ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت ثابت بن ضحاک رحمہ اللہ نے مجھے خبر دی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 22572
٢٢٥٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة سمع عمرًا يحدث عن جابر أن النبي ﷺ نهى عن المخابرة (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر سے مروی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے بٹائی پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 22573
٢٢٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة (١): سمع عمرو عبد اللَّه بن عمر يقول: كنا نخابر ولا نرى بذلك بأسا، حتى زعم رافع بن خديج أن النبي ﷺ نهى ⦗٢٦⦘ (عنها) (٢)، فتركناه من أجله (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم لوگ بٹائی پر زمین دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، یہاں تک کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا گمان یہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے، ہم نے ان کی وجہ سے یہ کام چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 22574
٢٢٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن أيوب عن جعفر بن برقان عن ثابت ابن الحجاج عن زيد بن ثابت قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن المخابرة، (قال) (١): قلت: وما المخابرة؟ قال: أن تأخذ الأرض بنصف، أو ثلث، أو ربع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بٹائی پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا مخابرۃ سے کیا مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ زمین نصف یا ثلث پر بٹائی پر دینا۔
حدیث نمبر: 22575
٢٢٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي ابن مسهر عن الشيباني عن حبيب بن أبي ثابت قال: كنت جالسًا مع ابن عباس في المسجد الحرام إذ أتاه رجل (فقال) (١): إنا نأخذ الأرض من الدهاقين، فأعتملها ببذري وبقري، فآخذ حقي وأعطيه حقه، فقال له: خذ رأس مالك، (ولا تردد) (٢) عليه (شيئًا) (٣)، فأعادها عليه ثلاث مرات، كل ذلك يقول له هذا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن ابی ثابت فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا ہوا تھا، آپ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ہم جاگیر داروں سے زمین لیتے ہیں، اور اس میں اپنے دانہ اور بیل سے محنت کرتے ہیں اور ان سے اپنا حق وصول کرتے ہیں اور ان کو ان کا حق دے دیتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا صرف راس المال لیا کرو اس سے زیادہ نہ لیا کرو، اس نے تین مرتبہ آپ سے پوچھا آپ نے تینوں بار یہی جواب دیا۔
حدیث نمبر: 22576
٢٢٥٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن خالد الحذاء عن عكرمة [أنه كره المزارعة بالثلث والربع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ مزارعۃ بالثلث اور ربع کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 22577
٢٢٥٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الأعمش عن إبراهيم] (١) (أنه كره) (٢) أن يعطي الأرض بالثلث والربع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ مزارعۃ بالثلث اور ربع کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 22578
٢٢٥٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عكرمة بن عمار عن عطاء عن جابر أنه كره كراء الأرض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ زمین کرایہ پر دینے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 22579
٢٢٥٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هاشم (بن) (١) القاسم عن عكرمة ابن عمار عن طاوس قال: لا (تُكرى) (٢) الأرض ولا (بذرة) (٣)، أو قال: (مدرة) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ زمین اور بیج کرایہ پر مت دو ۔
حدیث نمبر: 22580
٢٢٥٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عمر بن ذر عن مجاهد عن ابن رافع بن خديج عن أبيه قال: جاءنا (أبو) (١) رافع من عند رسول اللَّه ﷺ فقال: (نهانا) (٢) رسول اللَّه ﷺ عن أمر كان يرفق بنا، وطاعة اللَّه وطاعة رسوله أرفق بنا، (نهانا) (٣) أن يزرع أحدنا إلا أرضًا يملك رقبتها أو ⦗٢٨⦘ (منيحة) (٤) يمنحها رجل (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت سے ہمارے پاس تشریف لائے، اور فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں ایک کام سے منع فرمایا۔ وہ ہمارے ساتھ بہت نرمی کرتے تھے، لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سب سے زیادہ نرمی والی بات ہے۔ آپ نے ہمیں فرمایا ہے ہم اپنی زمین مزارعت پر دیں۔ ہمیں حکم ہے کہ یا تو اپنی مملوکہ زمین میں کھیتی باڑی کریں یا ایسی زمین میں جو بلا معاوضہ کام کے لیے دی گئی ہو۔
حدیث نمبر: 22581
٢٢٥٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (نصير) (١) بن (أدهم) (٢) قال: سمعت الضحاك بن مزاحم يقول: لا يصلح من الأرض إلا (خصلتان) (٣) أرض (منحكها) (٤) رجل (يملك رقبتها) (٥) أو أرض (استأجرتها) (٦) بأجر معلوم (إلى أجل معلوم) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک بن مزاحم فرماتے ہیں کہ زمین دو ہی خوبیوں کی صلاحیت رکھتی ہے، آدمی جس زمین کے رقبہ کا مالک ہے اس کو عارضی طور پردے دے یا زمین کو معین مدت کے لئے معین اجرت پردے دے۔
حدیث نمبر: 22582
٢٢٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل (١) بن أبي خالد عن الحكم عن إبراهيم قال: إن أمثل أبواب الزرع أن يستأجر الأرض البيضاء بأجر معلوم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کھیتی باڑی کا بہترین اصول یہ ہے کہ آدمی اپنی زمین معلوم اجرت کے بدلے کسی کو کرایے پردے دے۔
حدیث نمبر: 22583
٢٢٥٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن مجاهد قال: لا يصلح من الزرع إلا أرض تملك رقبتها، أو أرض يمنحكها رجل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کھیتی باڑی درست نہیں ہے مگر اس زمین میں جس کے رقبہ کا تو مالک ہو، یہ وہ زمین جو کسی نے عارضی طور پر نفع حاصل کرنے کے لئے دی ہو۔
حدیث نمبر: 22584
٢٢٥٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (جرير) (١) عن عبد العزيز بن رفيع عن ⦗٣٠⦘ رفاعة بن رافع بن خديج قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن المزارعة والإجارة (إلا أن) (٢) يشتري الرجل أرضًا أو يعار (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفاعۃ بن رافع ابن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی مزارعۃ اور اجارہ سے منع فرمایا ہے، مگر یہ کہ آدمی اس کو خرید لے یا معین مدت کے لئے کرایہ پر لے لے، پھر فرمایا کہ میرے والد محترم نے ایک شخص سے زمین عاریۃ لی اور اس میں کھیتی باڑی کی اور اس میں ایک عمارت بنا لی ، پھر وہ مالک زمین اس طرف آیا اور اس نے عمارت دیکھی اور پوچھا کس نے یہ عمارت بنائی ہے ؟ لوگوں نے کہا فلاں شخص نے جس کو آپ نے زمین عاریۃً دی تھی، اس نے کہا کہ کیا یہ عوض ہے اس کو جو میں نے اس کو دیا تھا ؟ لوگوں نے کہا ہاں، اس نے کہا کہ میں یہاں سے نہیں ہٹوں گا جب تک کہ تم لوگ اس کو گِرا نہ دو ۔
حدیث نمبر: 22585
٢٢٥٨٥ - ثم قال: (أعار أبي) (١) أرضًا من رجل فزرعها وبنى فيها بنيانًا، فخرج إليها فرأى البنيان فقال: من بنى هذا؟ (فقالوا:) (٢) (فلان) (٣) الذي أعرته؟ فقال: أعوض مما أعطيته؟ قالوا: نعم قال: لا (أبرح) (٤) حتى تهدموه (٥).