کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات نے سونے اور چاندی اور ایک دوسرے کے بدلے دینے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 22526
٢٢٥٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن الحكم قال: كان لامرأة إبراهيم على إبراهيم شيء، فأمرني أن أعطيها بقيمة الدراهم دنانير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ ابراہیم کی اہلیہ کا ان کے ذمہ کچھ لازم تھا، آپ نے مجھے حکم فرمایا کہ میں ان کو ان دراہم کی قیمت میں دینار دے دوں۔
حدیث نمبر: 22527
٢٢٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن داود بن أبي هند عن سعيد بن جبير، قال: رأيت ابن عمر يكون عليه، الورق فيعطي بقيمته دنانير (١) إذا قامت على سعر ويكون عليه الدنانير فيعطي الورق بقيمتها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ پر چاندی لازم تھی آپ نے اس کی قیمت میں دینار دے دئیے، اور آپ پر دینار لازم تھے آپ نے اس کی قیمت میں چاندی دے دی۔
حدیث نمبر: 22528
٢٢٥٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن السدي عن البهي عن يسار بن نمير عن عمر أنه لم ير بأسا باقتضاء الذهب من الورق، والورق من الذهب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ چاندی کے بدلے سونا اور سونے کے بدلے چاندی دی جائے۔
حدیث نمبر: 22529
٢٢٥٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن نافع قال: سألت سعيد ابن جبير عن رجل اقتضى ذهبًا من ورق، أو ورقًا من ذهب في القرض، قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن نافع کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید ابن جبیر رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ آدمی قرض میں سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے سونا دے سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22530
٢٢٥٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن معمر عن ابن طاوس عن أبيه أنه لم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22531
٢٢٥٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر عن معمر عن الزهري وقتادة، أنهما قالا: لا بأس بذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت زہری رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22532
٢٢٥٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الحسن قال: لا بأس باقتضاء الذهب من الورق، والورق من الذهب بقيمة السوق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بازار کی قیمت کا لحاظ کر کے اگر سونے کے بدلے چاندی اور چاندی کے بدلے میں سونا دے دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22533
٢٢٥٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22534
٢٢٥٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر (الحنفي) (١) عن أفلح (٢) عن القاسم قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 22535
٢٢٥٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي غنية عن أبيه عن الحكم أنه كان لا يرى بأسًا أن يكون للرجل على الرجل دنانير فيأخذ (منه) (١) (دراهم) (٢) (بصرفها) (٣)، ولا يرى بأسا أن يزيده على السعر أو ينقص منه إذا كان عن تراض منهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے ذمہ دوسرے کے دینار ہوں اور وہ ان کی جگہ درہم دے دے تو کوئی حرج نہیں، اگرچہ اس کی قیمت کچھ کم یا زیادہ بھی ہوجائے اگر وہ دونوں اس پر راضی ہوں۔