٢٢٥١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (١) عن زكريا عن الشعبي عن جابر بن عبد اللَّه أنه باع (النبي) (٢) ﷺ بعيرا واشترط ظهره إلى المدينة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن عبداللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونٹ یہ شرط لگا کر فروخت کیا کہ مدینہ منورہ تک اس پر سواری کریں گے۔
٢٢٥١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن يحيى بن سعيد عن أبي بكر بن عمرو بن حزم عن أبيه أنه باع ثمرة له بأربعة آلاف واستثنى منها ثمانمائة (درهم) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ نے چار ہزار دراہم میں پھل فروخت کئے اور اس میں سے آٹھ سو دراہم مستثنیٰ کئے۔
٢٢٥١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إبراهيم بن إسماعيل بن مجمع عن سالم أنه كان لا يرى بأسًا أن (يبيع) (١) ثمرته ويستثني (٢) مكيلة معلومة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ پھلوں کی بیع کی جائے اور اس میں سے کچھ معین کیل مستثنیٰ کرلیے جائیں۔
٢٢٥٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن (بشير) (١) عن أبي حازم قال: اشترينا من ابن عمر (بيتًا) (٢) واستثنى بعضه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کچھ خریدا تو انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ الگ کیا۔
٢٢٥٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يزيد عن ابن سيرين أنه كان لا يرى بأسًا أن يبيع الرجل ثمرته ويستثني (ثلثه، ربعه، نصفه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ اس طرح بیع کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ پھلوں کی بیع کرے اور اس میں سے ثلث ، ربع یا نصف مستثنیٰ کرلے۔
٢٢٥٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن [مالك بن أنس عن أبي الرجال عن أمه عمرة أنها كانت تبيع ثمرة أرضها وتستثني منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرۃ رحمہ اللہ اپنے زمین کے پھلوں کی بیع کرتی اور اس میں سے کچھ حصہ مستثنیٰ کرلیتیں۔
٢٢٥٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن] (١) مالك بن أنس عن عبد اللَّه بن أبي بكر بن عمرو بن حزم عن أبيه عن جده أنه باع ثمرته بأربعة آلاف (درهم) (٢) أو بثلاثة (آلاف) (٣) واستثنى منها سبعمائة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن حزم نے تین یا چار ہزار کے پھلوں کی بیع کی اور اس میں سے سات سو دراہم مستثنیٰ کئے۔
٢٢٥٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان، عن منصور والأعمش، عن إبراهيم (قال) (١): لا بأس أن يبيع السلعة ويستثني (نصفها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں کہ سامان کی بیع کی جائے اور اس میں سے نصف مستثنیٰ کرلیا جائے۔
٢٢٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن مالك بن أنس عن ربيعة الرأي عن القاسم بن محمد أنه باع ثمرته واستثنى منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن محمد رحمہ اللہ نے اپنے پھل فروخت کئے اور اس میں کچھ مستثنیٰ کئے۔