کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
حدیث نمبر: 22506
٢٢٥٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن (أبي) (١) الزبير عن جابر أن النبي ﷺ نهى عن (الثنيا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ بیع کر کے اس میں کچھ حصہ (مجہول) الگ کرلیا جائے۔
حدیث نمبر: 22507
٢٢٥٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو بن شعيب قال: قلت لسعيد بن المسيب: أبيع (ثمرة) (١) أرضي وأستثني؟ قال: لا تستثن إلا شجرا معلومًا، ولا تبرأن من الصدقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ : میں اپنی زمین کے پھل فروخت کر کے اس میں سے کچھ حصہ الگ کرسکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا مستثنیٰ نہ کرو، اگر کرنا ہے تو ایک معین درخت الگ کرلو، لیکن اس کو بھی صدقہ سے بری نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس رائے کو پسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 22508
٢٢٥٠٨ - قال: فذكرته لمحمد بن سيرين فكأنه أعجبه.
حدیث نمبر: 22509
٢٢٥٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية وابن أبي زائدة عن ابن عون عن القاسم، قال: لولا أن ابن عمر كره (الثنيا) (١) وكان عندنا مرضيًا (٢) ما رأينا بذلك بأسًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بعض مجہول حصہ الگ کرنے کو ناپسند نہ کرتے اور ہماری اپنی مرضی ہوتی تو ہم لوگ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے۔ ابن علیۃ راوی اضافہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے میں اس (معین) درخت کو فروخت نہیں کروں اس درخت ( معین) کو فروخت نہیں کروں گا۔
حدیث نمبر: 22510
٢٢٥١٠ - زاد ابن علية عن ابن عون فتحدثنا أن ابن عمر كان يقول: لا أبيع هذه النخلة، ولا (أبيع) (١) هذه النخلة (٢).
حدیث نمبر: 22511
٢٢٥١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أنه كره أن (يشتري شيئًا من النخل) (١) بكيلٍ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کھجور کے درختوں میں سے کچھ ماپ کر خریدے جائیں۔
حدیث نمبر: 22512
٢٢٥١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن (أبي حمزة) (١) قال: قلت لإبراهيم: (أبيع) (٢) الرجل الشاة و (أستثني) (٣) بعضها، قال: لا، ولكن (قل) (٤): أبيعك نصفها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حمزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے عرض کیا کہ میں ایک آدمی کو بکری فروخت کر کے اس کا بعض حصہ مستثنیٰ کیا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ٹھیک نہیں ۔ بلکہ آپ اس کو یوں کہو کہ میں نصف بکری آپ کو فروخت کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 22513
٢٢٥١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الصمد (عن) (١) أبي الجارود قال: سألت جابر بن زيد عن الرجل يبيع البيع ويستثني بعضه، قال: لا يصلح ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور اس میں سے کچھ مستثنیٰ کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ ٹھیک نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22514
٢٢٥١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في الرجل يبيع ثمر أرضه ويستثني الكر، قال: كان يعجبه أن يعلم نخلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی اپنی زمین سے کھجور کی بیع کرے اور ایک ( یا کچھ) کُرّ مستثنیٰ کرلے، آپ نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ کھجور کے درخت کو جانتا ہے ( کہ وہ کتنی کھجور دے گا) ۔
حدیث نمبر: 22515
٢٢٥١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حجاج قال: سألت أبا بكر بن أبي موسى عن رجل باع من رجل سلعة وقال: أنا (شريكك) (١) فيها قال: فكره هذا البيع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر بن ابو موسیٰ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ایک آدمی نے دوسرے کو سامان فروخت کیا اور اس نے کہا کہ میں سامان میں تیرا شریک ہوں ؟ آپ نے اس بیع کو ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 22516
٢٢٥١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عمرو بن عامر عن قتادة عن سالم أنه كره أن يستثني كيلًا أو سلالًا أو (كرارًا) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ بیع میں کچھ کیل، کُرّ یا خاص برتن مستثنیٰ کر لئے جائیں۔