کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص کسی سے کپڑا خریدے اور اُس کو کاٹ بھی لے پھر اُس کپڑے میں عیب پائے توکیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22477
٢٢٤٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن ابن سيرين عن (عثمان) (١) أنه قضى في الثوب يشتريه الرجل وبه عوار أنه يرده إذا كان قد لبسه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک شخص نے کپڑا خریدا اس کپڑے میں عیب تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ اس کو واپس کر دے، خواہ اس نے اس کو پہنا ہو۔
حدیث نمبر: 22478
٢٢٤٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في رجل (اشترى) (١) ثوبًا ثم رأى فيه عوارًا، قال: يحط عنه من ثمنه ما يضع ذلك العوار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک آدمی نے کپڑا خریدا پھر اس میں عیب پایا، آپ نے فرمایا عیب کی بقدر ثمن میں پیسے واپس کئے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 22479
٢٢٤٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن ابن عون عن محمد قال: كان يقول في الرجل يشتري الثوب فيرى فيه العوار (قال: كان يقول) (١): إذا تغير عن حاله أحب إليّ أن (يحوزه) (٢) ويحط عنه قدر العوار.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کپڑا خریدے، پھر اس میں عیب پائے تو اگر وہ کپڑا اپنی حالت سے بدل گیا ہے تو میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ بیع کو نافذ کیا جائے اور عیب کی بقدر ثمن کم کیا جائے۔
حدیث نمبر: 22480
٢٢٤٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الحسن (بن) (١) (عبيد اللَّه) (٢) عن إبراهيم عن شريح (أنه) (٣) اختصم إليه رجلان اشترى أحدهما من الآخر ⦗٦⦘ (راوية) (٤) فقطعها ثم وجد بها عيبا فقال (٥): (للذي) (٦) أحدثت بها أشد من الذي كان بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس دو شخص جھگڑا لے کر آئے، ایک نے دوسرے سے کپڑا خریدا تھا اور پھر اس کو کاٹ دیا تھا، کاٹنے کے بعد اس میں عیب پایا، آپ نے فرمایا کہ : کاٹنے کی وجہ سے جو عیب تو نے اس میں پیدا کردیا وہ اس عیب سے زیادہ سخت ہے جو اس میں تھا۔
حدیث نمبر: 22481
٢٢٤٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم عن رجل اشترى ثوبًا فقطعه فوجد به عوارًا قال: يرده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبۃ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے کپڑا خرید کر اس کو کاٹ لیا پھر اس میں عیب نکل آیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ کپڑا واپس کر دے گا، میں نے پھر حضرت حماد سے یہی دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ وہ کپڑا واپس کر دے گا اور کاٹنے کا تاوان بھی واپس کرے گا۔ ( کپڑے کو کاٹنے کی وجہ سے جو خرابی آئی ہے اس کا جرمانہ بھی واپس کرے گا) شعبہ راوی فرماتے ہیں کہ مجھے ہیثم نے خبر دی ہے کہ حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اس سے عیب کا تاوان لے گا۔
حدیث نمبر: 22482
٢٢٤٨٢ - وسألت حمادًا فقال: يرده ويرد (معه) (١) أرش التقطيع.
حدیث نمبر: 22483
٢٢٤٨٣ - قال شعبة: وأخبرني اليهثم عن حماد أنه قال: يوضع عنه أرش العوار.
حدیث نمبر: 22484
٢٢٤٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن جبلة بن (سحيم) (١) قال: رأيت ابن عمر اشترى قميصًا فلبسه، فأصابته صفرة من لحيته، فأراد أن يرده فلم يرده من أجل الصفرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جبلۃ بن سحیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ رضی اللہ عنہ نے ایک قمیض خریدی اور اس کو پہن لیا، اس میں آپ کی داڑھی سے زردی لگ گئی، آپ نے وہ قمیض واپس کرنے کا ارادہ کیا پھر اس زردی کی وجہ سے واپسی کا ارادہ ترک فرما دیا۔
حدیث نمبر: 22485
٢٢٤٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (جرير) (١) بن حازم عن ابن سيرين عن عثمان قال: من اشترى ثويًا فوجد به عيبا فهو بالخيار (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص ایسی قمیض خریدے جس میں عیب ہو تو اس کو اختیار ہے۔ ( چاہے تو رکھ لے چاہے تو واپس کر دے)