کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دو آدمیوں کا کسی چیز کے بارے میں جھگڑا ہو جائے پھر ان میں سے ایک گواہ پیش کر دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22459
٢٢٤٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن الشعبي قال: ادعى رجل بغلا في يد رجل وأقام البينة أنه له، وأقام الذي هو في يده: البينة (أنه) (١) أنتجه، فقضى به شريح للذي هو في يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کے قبضہ میں موجود خچر پر دعویٰ کیا اور گواہ پیش کر دئیے ۔ پھر وہ جس کے قبضے میں تھا اس نے اس بات پر گواہ پیش کردیے کہ یہ خچر اس کے پاس پیدا ہوا ہے۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس کا فیصلہ اس کے لئے کردیا جس کے قبضے میں وہ تھا۔
حدیث نمبر: 22460
٢٢٤٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي حصين قال: اختصم إلى عبد اللَّه بن عتبة في (لوالٍ) (١) وأنا عنده، (فأقام) (٢) كل واحد (منهما) (٣) البينة أنها له، قال: فرأيت عبد اللَّه بن عتبة يحركهن بيده ويقول: هي (للمتلد) (٤)، هي للذي في يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عتبہ کے پاس تھا کہ آپ کے پاس موتیوں کا جھگڑا لایا گیا، ان میں سے ہر ایک نے گواہ پیش کئے کہ یہ اس کا ہے، میں نے حضرت عبد اللہ بن عتبہ کو دیکھا کہ وہ اُ س کو اپنے ہاتھ سے حرکت دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ یہ اس کا ہے جس کے قبضہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 22461
٢٢٤٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن حجاج عن الحكم قال: وجد بغل في النهرين، (فأقام) (١) كل فرقة البينة أنه لهم، فقضى به عبد اللَّه بن عتبة: (للذي هو) (٢) في أيديهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے مروی ہے کہ ایک خچر کے بارے میں دو گروہوں کا جھگڑا ہوگیا، ہر گروہ نے گواہ قائم کئے یہ خچر ان کا ہے، حضرت عبد اللہ بن عتبہ رحمہ اللہ نے فیصلہ فرمایا کہ جن کا قبضہ ہے یہ ان کا ہے۔
حدیث نمبر: 22462
٢٢٤٦٢ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي زائدة عن حجاج عن حماد عن إبراهيم قال: إذا استوت البينتان فهو للذي في أيديهم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب دونوں فریق گواہ پیش کردیں تو چیز اس کے لئے ہوگی جس کا قبضہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 22463
٢٢٤٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا شهد شاهدان أن هذه الدابة لفلان و (نتجت) (١) عنده، وشهد شاهدان أنها لفلان و (نتجت) (٢) عنده، (فهي) (٣) للذي في يده.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب دو گواہ اس بات پر گواہی دیں کہ یہ جانور فلاں شخص کا ہے اور اس کے پاس پیدا ہوا ہے، اور دوسرے دو گواہ گواہی دیں کہ یہ فلاں کا ہے اور اس کے پاس پیدا ہوا ہے تو جس کے قبضہ میں ہوگا اس کے لئے فیصلہ کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 22464
٢٢٤٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن (حسن) (١) بن صاع عن أشعث عن الحكم في الرجل يكون في يده الثوب فيقيم الرجل البينة أنه ثوبه، ويقيم الذي (هو) (٢) في يده البينة أنه ثوبه، فقال: هو للذي في يده، وقال في الدابة: يقيم هذا البينة (أنها دابته) (٣)، ويقيم الذي (هي) (٤) في يده البينة أنها دابته قال: هي للذي في يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک شخص کے پاس کپڑا تھا ایک شخص نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا کپڑا ہے، اور جس کے پاس تھا اس نے بھی گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ جس کے قبضہ میں ہے اس کا ہے، اور جانور میں ایک شخص نے گواہ پیش کئے کہ یہ اس کا جانور ہے، اور جس کا قبضہ تھا اس نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا جانور ہے ، آپ نے فرمایا جس کے قبضہ میں ہے اس کا ہے۔
حدیث نمبر: 22465
٢٢٤٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك (عن) (١) تميم بن طرفة أن رجلين ادعيا بعيرًا، فأقام كل واحد (منهما) (٢) البينة أنه له، فقضى به النبي ﷺ أنه بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تمیم بن طرفۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے ایک اونٹ کے متعلق دعویٰ کیا اور ہر ایک نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ یہ ان دونوں کا ہے۔
حدیث نمبر: 22466
٢٢٤٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن علقمة بن مرثد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن أبي الدرداء، أن رجلين اختصما إليه في دابة، فأقام كل واحد (منهما) (١) البينة أنها له، [[فقضى به بينهما، وقال: ما كان أحوجكما إلى مثل سلسلة بني إسرائيل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ دو آدمی ایک جانور کے متعلق جھگڑتے ہوئے حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور ان میں سے ایک نے گواہ پیش کر دئیے کہ یہ اس کا ہے، آپ رضی اللہ عنہ نے اس کا فیصلہ دونوں کے لئے فرما دیا اور فرمایا کہ : تم دونوں میں سے زیادہ محتاج بنی اسرائیل کی زنجیر کی طرح نہیں تھا۔
حدیث نمبر: 22467
٢٢٤٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة (عن سعيد) (١) عن [قتادة عن سعيد ابن أبي بردة عن أبي موسى أن رجلين اختصما في دابة، وأقام كل واحد منهما البينة أنها له] (٢) فقضى النبي ﷺ بها بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کا ایک جانور کے بارے میں جھگڑا ہوگیا اور ہر ایک نے گواہ پیش کر دئیے کہ وہ اس کا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا دونوں کے لئے فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 22468
٢٢٤٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عفان، قال نا همام عن]] (١) سعيد بن أبي بردة (عن أبيه) (٢) عن أبي موسى عن النبي ﷺ بمثل حديث عبدة (عن) (٣) سعيد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 22469
٢٢٤٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن الحارث عن ابن أبي عروبة عن ⦗٥٤٢⦘ قتادة عن خلاس عن أبي رافع عن أبي هريرة أن رجلين اختصما إلى النبي ﷺ في دابة وليس (بينهما) (١) بينة، فأمرهما رسول اللَّه ﷺ أن يستهما على اليمين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو آدمی ایک جانور کے متعلق جھگڑتے ہوے حضور ﷺ کی خدمت میں آئے، دونوں کے پاس گواہ نہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ دونوں قسم کے بارے میں قرعہ اندازی کرلیں۔