کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے کوئی ایک اُس غلام کو مکاتب بنا لے
حدیث نمبر: 22377
٢٢٣٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن يعقوب بن القعقاع عن مطر عن الحسن في عبد بين ثلاثة؛ كاتبه أحدهم قال: يؤخذ منه ما أخذ منه فيقسم بين شركائه، والعبد بينهم [لا (تجوز) (١) كتابته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اس غلام کے متعلق فرماتے ہیں جو تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک اس کو مکاتب بنا لے، تو اس شخص سے لے لیا جائے گا جو وہ مکاتب غلام سے وصول کرے اور وہ مال تینوں شرکاء کے درمیان تقسیم ہوگا، اور غلام تینوں کی ملکیت میں رہے گا اس کا مکاتب بنانا جائز نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22377
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22377، ترقيم محمد عوامة 21485)
حدیث نمبر: 22378
٢٢٣٧٨ - قال: وكان عطاء يقول: نفاذ عتقه قدر الذي عتق] (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22378
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22378، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22379
٢٢٣٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا صفوان بن عيسى عن أنيس بن أبى يحيى، قال: سألت سعيد بن المسيب عن مكاتب كان بين ثلاثة قاطعه بعضهم وتمسك بعضهم بكتابته فلم يقاطعه، ومات (المكاتب) (١) وترك مالا كثيرًا، لمن (يتركه) (٢)؟ قال: فقال سعيد: (يستوفي) (٣) الذين تمسكوا بقية كتابتهم، ثم يكون ما بقي (بينهم) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک مکاتب تین آدمیوں کے درمیان مشترک ہے، ان میں سے بعض نے اس کو کتابت سے علیحدہ کردیا اور بعض نے مال کتابت وصول کیا اور علیحدہ نہ کیا، وہ مکاتب غلام فوت ہوگیا اور اس نے ترکہ میں بہت سے مال چھوڑا، تو اس کا ترکہ کس کو ملے گا ؟ حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے فرمایا : جنہوں نے مکاتب بنایا تھا ان کو بقیہ مال کتابت دیا جائے گا پھر جو کچھ بچے گا وہ ان کے درمیان مشترک ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22379
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22379، ترقيم محمد عوامة 21486)
حدیث نمبر: 22380
٢٢٣٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (سهل) (١) بن يوسف عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن عبد كان بين رجلين، فكاتب أحدهما نصيبه، فكرهه حماد ولم ير (به الحكم) (٢) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا گیا کہ ایک غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہے ان میں سے کسی ایک کا اس کو مکاتب بنانا کیسا ہے ؟ حضرت حماد نے اس کو ناپسند فرمایا اور حضرت حکم نے اس کی اجازت دی اور ایسا کرنے میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22380
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22380، ترقيم محمد عوامة 21487)
حدیث نمبر: 22381
٢٢٣٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسرائيل عن جابر عن عامر في رجل كاتب حصته من عبد قال: إن علم أصحابه قبل أن يؤدي (ردوه) (١)، وإن أدى لم يرد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ کوئی شخص غلام میں اپنے حصہ کا مکاتب بنا لے اگر ادائیگی سے قبل اس کے ساتھیوں کو پتہ چل جائے تو رد کردیا جائے گا اور اگر ان کو معلوم ہونے سے پہلے ادائیگی ہوجائے تو رد نہیں کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22381
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22381، ترقيم محمد عوامة 21488)
حدیث نمبر: 22382
٢٢٣٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أبيه عن عامر في عبد بين ثلاثة فأعتقه رجلان منهم، ثم توفي العبد وله مال، قال: يغرمان اللذان أعتقا للذي لم يعتق ثلث ثمنه، ثم يقسم ميراثه على ثلاثة أسهم، لكل رجل سهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اس غلام کے متعلق فرماتے ہیں جو تین آدمیوں کے درمیان مشترک تھا ان میں سے دو نے اس کو آزاد کردیا، پھر غلام کا انتقال ہوگیا اور اس نے کچھ مال چھوڑا تو جن دو نے غلام کو آزاد کیا تھا وہ تیسرے شخص کے لئے ثلث مال کا ضامن ہوں گے پھر اس کے بعد اس کی وراثت کو تین حصوں میں تقسیم کریں گے اور ہر شریک کو ایک حصہ ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22382
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22382، ترقيم محمد عوامة 21489)
حدیث نمبر: 22383
٢٢٣٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يونس عن الحسن في عبد بين رجلين، قال: كان يكره أن يكاتبه أحدهما إلا بإذن شريكه، فإن فعل قاسمه الذي لم يكاتب (١) كل شيء أخذ منه، فإذا استكمل الذي كاتبه ما كاتبه عليه عتق وسعى في نصف قيمته (للذي) (٢) لم يكاتبه والولاء بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں جو غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو، اسے دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر مکاتب بنانا مکروہ ہے، اور اگر بغیر اجازت کے مکاتب بنا لیا تو جتنا مال پہلا شریک غلام سے وصول کرے گا وہ مال دوسرے شریک کے ساتھ تقسیم کرے گا، ، پھر غلام مکمل بدل کتابت ادا کر دے تو وہ آزاد ہوجائے گا اور جس آقا نے اس کو آزاد نہیں کیا تھا اس کے لئے نصف قیمت میں سعی کرے گا اور اس غلام کی ولاء دونوں کو ملے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22383
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22383، ترقيم محمد عوامة 21490)