کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر کوئی باندی خود کو آزاد قرار دے (اور اس سے شادی کرلی جائے تو) کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22351
٢٢٣٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن أيوب بن موسى (عن) (١) ابن (قسيط) (٢) عن سليمان بن يسار أن أمة أتت قومًا فغرتهم (وزعمت) (٣) أنها حرة، فتزوجها رجل فولدت منه أولادًا فوجدوها أمة، فقضى عمر بقيمة أولادها في كل مغرور (غرة) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک باندی ( ہجرت کر کے ) ایک قوم کے پاس آئی اور ان کو دھوکہ دیا، اور انہیں کہا کہ وہ آزاد ہے، ایک شخص نے اس کے ساتھ نکاح کرلیا اور اس سے کچھ بچے بھی ہوگئے، پھر معلوم ہوا کہ وہ تو باندی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی اولاد کی قیمت ادا کرنے کا فیصلہ یہ فرماتے ہوئے کیا کہ ہر وہ شخص جس کے ساتھ دھوکہ ہو اس کو جرمانے کے طورغرہ ( غلام یا باندی) دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22351
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22351، ترقيم محمد عوامة 21459)
حدیث نمبر: 22352
٢٢٣٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن خلاس أن أمة أتت طيا فزعمت أنها حرة، (فتزوجها) (١) (رجل) (٢)، ثم إن سيدها ظهر عليها فقضى عثمان أنها وأولادَها لسيدها، وجعل لزوجها ما أدرك من (متاعه) (٣)، وجعل فيهم السنة أو الملة: في كل رأس رأسين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلاس رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک باندی قبیلہ طیء میں آئی، اس نے کہا کہ وہ آزاد ہے، اس کو آزاد سمجھتے ہوئے ایک شخص نے اس کے ساتھ نکاح کرلیا، پھر اس باندی کا آقا اس کو لینے آگیا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ باندی اور اس کے بچے آقا کو ملیں گے، اُور اس کے شوہر کے لئے وہ ہے جو وہ سامان میں سے پالے۔ پھر آپ نے لوگوں میں یہ طریقہ جاری فرمادیا کہ ہر ایک نفس میں دو نفس ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22352
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عبد الأعلى روى عن سعيد قبل اختلاطه.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22352، ترقيم محمد عوامة 21460)
حدیث نمبر: 22353
٢٢٣٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن أشعث عن الشعبي قال: سألته عن جارية أبقت (١) من أرض إلى أرض أخرى فأتت قومًا، فزعمت أنها ⦗٥١٧⦘ حرة، فرغب فيها رجل فتزوجها فولدت (له) (٢) أولادًا ثم علموا أنها أمة، فجاء مولاها فأخذها، قال: يأخذ المولى أمته، ويفدي الأبُ أولادهَ (بغرة) (٣) غرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک باندی ایک شہر سے بھاگ کر دوسرے شہر چلی گئی، اور ایک قوم کے پاس آ کر اپنے آپ کو آزاد ظاہر کیا، تو اس میں ایک شخص نے رغبت کی اور اس کو پسند کر کے اس کے ساتھ نکاح کرلیا اور اس سے کچھ بچے بھی ہوگئے، پھر پتہ چلا کہ وہ تو باندی ہے اور اس کا آقا بھی آگیا تو کیا وہ اس باندی کو لے جاسکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ آقا اپنی باندی کو لے جائے گا اور اس کے بچوں کے باپ کے لئے غلام یا باندی ہے۔ ( اس کو غلام یا باندی دے گا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22353
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22353، ترقيم محمد عوامة 21461)
حدیث نمبر: 22354
٢٢٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن هشام بن (سعد) (١) عن شيبة بن نصاح عن سعيد بن المسيب قال: في (ولد كل) (٢) مغرورٍ غرةٌ.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دھوکے سے کیے گئے نکاح سے پیدا ہونے والے ہر بچے کے بدلے میں ایک غرہ (غلام یا باندی) ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22354
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22354، ترقيم محمد عوامة 21462)