حدیث نمبر: 22320
٢٢٣٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم أنه كان يقول: (تجوز) (١) شهادة الصبيان بعضهم على بعض.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ بچوں کی گواہی بعض کی بعض کے خلاف جائز ہے۔
حدیث نمبر: 22321
٢٢٣٢١ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن شريح أنه كان يجيز شهادة الصبيان بعضهم على بعض] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ بعض بچوں کی گواہی ایک دوسرے پر بیع کے معاملہ میں صحیح سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22322
٢٢٣٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن هشام بن عروة عن أبيه أنه كان يقول: (تجوز) (١) شهادة الصبيان (٢) ويؤخذ بأول قولهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ بچوں کی گواہی جائز ہے، اور ان کی پہلی بات لی جائے گی۔
حدیث نمبر: 22323
٢٢٣٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة عن ابن عباس في شهادة الصبيان (١)، قال اللَّه تعالى: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ [البقرة: ٢٨٢]، (و) (٢) ليسوا ممن (يرضون) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بچوں کی گواہی کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ { مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَائِ } جبکہ بچے مِمَّنْ تَرْضَوْنَ میں نہیں آتے۔ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ اس چیز کے زیادہ مستحق اور لائق ہیں جس کو چیز کو وہ دیکھیں اور اس کے متعلق ان سے سوال کیا جائے تو وہ گواہی دیں، اور حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاضیوں کو نہیں دیکھا کہ وہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے قول کے علاوہ کسی کا قول لیتے ہوں۔
حدیث نمبر: 22324
٢٢٣٢٤ - قال: (ابن) (١) الزبير: هم (أحرى) (٢) إذا سئلوا عما رأوا أن يشهدوا (٣).
حدیث نمبر: 22325
٢٢٣٢٥ - قال ابن أبي مليكة: فما رأيت القضاة أخذت إلا بقول ابن الزبير (١).
حدیث نمبر: 22326
٢٢٣٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن وردان عن يونس عن الحسن قال: لا (تجوز) (١) شهادة الصبيان على الكبار، وتجوز شهادة الصبيان بعضهم (على بعض) (٢) إذا فرق بينهم.
مولانا محمد اویس سرور
بچوں کی گواہی بڑوں کے خلاف جائز نہیں اور بچوں کی گواہی بچوں کے خلاف جائز ہے جب ان کے درمیان کوئی لڑائی، تفرقہ ہوجائے۔
حدیث نمبر: 22327
٢٢٣٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عبد الأعلى عن شريح أنه كان يجيز شهادة الصبيان (في) (١) السن والموضحة، و (يأباهم) (٢) فيما سوى ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ بچوں کی گواہی دانت اور موضحہ زخم میں جائز سمجھتے تھے اور اس کے علاوہ ان کی گواہی قبول نہیں کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 22328
٢٢٣٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس (١) عن أبي بكر بن (أبي) (٢) مريم قال: سمعت مكحولًا يقول: إذا بلغ الغلام خمسة عشر جازت شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب بچے کی عمر پندرہ برس ہوجائے، تو اس کی گواہی معتبر (جائز) ہے۔
حدیث نمبر: 22329
٢٢٣٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر عن (داود) (٢) بن الحصين قال: (شهد غلام) (٣) عند قاض من قضاة أهل المدينة يقال له سلمة بن عبد الرحمن المخزومي، فأرسل (إلى) (٤) (القاسم وسالم) (٥) فسألهما عن شهادته، (قالا) (٦): إن كان أنبت فأجز شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داؤد بن حصین رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ کے قاضیوں میں سے ایک قاضی کے پاس ایک بچے نے گواہی دی، جس کا نام سلمہ بن عبد الرحمن المخزومی تھا۔ حضرت سالم رحمہ اللہ اور حضرت قاسم رحمہ اللہ سے اس کی گواہی کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر اس کے زیر ناف کچھ بال آ چکے ہیں تو اس کی گواہی معتبر ہے۔
حدیث نمبر: 22330
٢٢٣٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن ابن سيرين أنه قال في شهادة الصبيان: تكتب شهادتهم و (يستثبتون) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین بچوں کی گواہی کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور اس کی تحقیق اور چھان بین کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 22331
٢٢٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن محمد (عن حميد) (١) بن عبد الرحمن قال: يستثبتون.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تحقیق کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 22332
٢٢٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن حجاج عن عطاء عن ابن عباس قال: لا تجوز شهادة الصبي (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ بچوں کی گواہی معتبر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22333
٢٢٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة (عن) (١) عبد الملك عن عطاء قال: لا تجوز شهادة الصغار حتى يكبروا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں بڑے ہونے سے پہلے بچوں کی گواہی معتبر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22334
٢٢٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أبي سهل عن عامر قال: كان لا (يجيز) (١) شهادة (الصبي) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ بچوں کی گواہی کو جائز نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22335
٢٢٣٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن (الزبير) (١) ابن عدي عن سليمان الهمداني، قال: شهدت عند شريح وأنا غلام فقال: بإصبعه في بعض جسدي: حتى تبلغ.
مولانا محمد اویس سرور
سلیمان الھمدانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو میں نے حضرت شریح رحمہ اللہ کے سامنے گواہی دی، آپ رحمہ اللہ نے میرے کچھ جسم کو انگلی سے چھو کر فرمایا : بالغ ہونے سے قبل گواہی معتبر نہیں۔
حدیث نمبر: 22336
٢٢٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (شهد) (١) عند ابن أبي ليلى (صبيان) (٢) من الحي لم يبلغوا، فقال: اكتب: شهد فلان وفلان وهم صغار ولم يبلغوا، فإذا بلغوا فإن ثبتوا على شهادتهم جازت، وإن رجعوا فليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن ابی لیلی رحمہ اللہ کے پاس محلّے کے کچھ بچوں نے گواہی دی جو نابالغ تھے، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : فلاں، فلاں کی گواہی لکھ لو ، جب بالغ ہوجائیں تو دیکھنا کہ اگر اس پر ثابت اور برقرار ہیں تو گواہی معتبر ہے اور اگر رجوع کرلیں تو وہ گواہی کالعدم ہوگی۔
حدیث نمبر: 22337
٢٢٣٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن عيسى بن أبي عزة عن الشعبي أنه كان يجيز شهادة الصبيان ويرسل إليهم فيسألهم عنها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ بچوں کی گواہی معتبر سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22338
٢٢٣٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن شريح أنه أجاز شهادة غلمان في آمة (١)، وقضى فيها بأربعة آلاف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ نے باندی کے معاملہ میں بچے کی گواہی کو قبول کیا اور چار ہزار دراہم کا فیصلہ سنایا۔
حدیث نمبر: 22339
٢٢٣٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن عمرو عن الحسن عن علي أنه كان يجيز شهادة الصبيان بعضهم على بعض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ بچوں کی گواہی بچوں کے بارے میں جائز سمجھتے تھے۔