حدیث نمبر: 22301
٢٢٣٠١ - [أخبرنا عبد اللَّه بن يونس قال: حدثنا (أبو) (١) عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن محمد بن (زيد) (٢) عن ابن عمر في الرجل يقرض الرجل (الدراهم) (٣) ثم يأخذ بقيمتها طعاما: أنه كرهه] (٤) (٥).
حدیث نمبر: 22302
٢٢٣٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن سعيد بن جبير وحماد (و) (١) عكرمة (قالوا) (٢): كانوا (لا) (٣) يرون بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ ، حضرت حماد اور حضرت عکرمہ رحمہ اللہ اس طرح کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22303
٢٢٣٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن ليث عن طاوس قال: إذا كان أصل الحق دينا فلا تأخذ منه إلا ما بعته به، (فإذا) (١) كان قرضًا فلا يضرك أن تأخذ غير ما أقرضته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب اصل حق دین ہو ( یعنی مدت متعین ہو ) تو جو چیز دی ہے وہی وصول کر، اور اگر قرض ہو ( مدت متعین نہ ہو ) تو جو قرض دیا ہے اس کے غیر جنس لینے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22304
٢٢٣٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس إذا كان للرجل على الرجل (الدراهم) (١) فأتاه فتقاضاه فقال: خذ بحقك شعيرًا أو حنطة أو تمرًا أو شيئًا غير الذهب، قال: إذا كانت دراهمه قرضًا فإنه يأخذ بها ما شاء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آدمی کے کسی شخص پر کچھ دراہم قرض ہوں، اور وہ اس کے پاس آ کر قرض کا مطالبہ کرے اور مقروض کہے کہ اس کے بدلے جو، گندم، کھجور یا سونے کے علاوہ کوئی چیز رکھ لے تو کوئی حرج نہیں، جب اس کے درہم دوسرے پر قرض ہوں تو وہ اس کے بدلے اس سے جو چاہے وصول کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 22305
٢٢٣٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن ابن حرملة قال: بعت (جزورًا) (١) بدراهم إلى الحصاد، فلما (حل) (٢) (قضوني) (٣) الحنطة والشعير والسلت، فسألت سعيد بن المسيب فقال: لا يصلح، (لا) (٤) تأخذ إلا (الدراهم) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حرملۃ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اونٹنی اس بات پر فروخت کی کہ کٹائی کے دن مجھے درہم بدلے میں چاہئیں۔ جب سپردگی کا وقت آیا تو میرے لیے گندم، جو اور گیہوں کا فیصلہ کیا تو میں نے حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ درست نہیں ہے، دراہم کے علاوہ کوئی چیز وصول نہ کرنا۔
حدیث نمبر: 22306
٢٢٣٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (ميسر) (١) عن (ابن) (٢) جريج عن أبي الزبير عن جابر قال: إذا كان للرجل على الرجل الدين فلا بأس أن يشتري منه عبدا رخيصًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جا بر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آدمی کا دوسرے پر دین ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ اس سے ( اس کے بدلہ میں ) سستا غلام لے لے۔