حدیث نمبر: 22241
٢٢٢٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر وأبو معاوية عن الشيباني ⦗٤٩٣⦘ عن الشعبي عن شريح أنه كان لا يرى بأسًا في (أن يشتري) (١) المائة في العطاء بالعرض.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح اس بات میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ عطاء کو سامان کے بدلے فروخت کیا جائے۔ حضرت شعبی مطلقاً مکروہ نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22242
٢٢٢٤٢ - قال: وقال الشعبي: لا يشترى (بعَرض) (١) ولا بغيره.
حدیث نمبر: 22243
٢٢٢٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام عن قتادة عن زرارة بن (١) أوفى عن ابن عباس أنه كره بيع المائة في العطاء إلا بعرض (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک سامان کے علاوہ عطاء کی بیع مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 22244
٢٢٢٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن صالح بن مسلم قال: سألت الشعبي عن شراء الزيادة في العطاء، قال: لا آمر بها ولا أنهى (عنها) (١) (وأنهى) (٢) (عنها) (٣) نفسي وولدي، وقد فعل ذلك من هو خير مني، قلت: من؟ قال: (أمراء) (٤) المؤمنين (٥).
مولانا محمد اویس سرور
شعبی سے عطا میں زیادتی کے ساتھ بیع کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہ اس کا حکم دیتا ہوں نہ اس سے منع کرتا ہوں میں خود کو اور اپنی اولاد کو اس سے روکتا ہوں۔ اسے مسلمانوں کے امراء نے کیا ہے اور مجھ سے بہتر تھے۔
حدیث نمبر: 22245
٢٢٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن حماد بن زيد عن (بكر) (١) بن عثمان قال: كنت أشتري الزيادة في العطاء بخراسان بالحرير ⦗٤٩٤⦘ و (الدراهم) (٢)، فحججت فسألت سالما فقال: أكرهه (بالدراهم) (٣) وليس به بأس بالعروض.
مولانا محمد اویس سرور
بکر بن عثمان فرماتے ہیں کہ میں خراسان میں ریشم اور دراہم کے بدلے عطاء کی زیادتی کو بیچا کرتا تھا۔ ایک سال میں نے حج کیا اور اس بارے میں حضرت سالم سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں اگر سامان کے ساتھ ہوں۔ البتہ دراہم کے ساتھ میں مکروہ سمجھتا ہوں۔ حضرت محمد بن کعب اور حضرت عطاء نے بھی یہی جواب دیا۔ میں نے حسن اور حضرت ابن سیرین سے بھی سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم اسے درہم کے ساتھ مکروہ سمجھتے ہیں البتہ سامان کے ساتھ کچھ حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22246
٢٢٢٤٦ - وسألت محمد بن كعب القرظي فقال: مثله.
حدیث نمبر: 22247
٢٢٢٤٧ - وسألت عطاء، فقال: مثله.
حدیث نمبر: 22248
٢٢٢٤٨ - وسألت الحسن، وابن سيرين، فقالا: نكرهها (بالدراهم) (١) ولا نرى (بها) (٢) بأسًا بالعروض.
حدیث نمبر: 22249
٢٢٢٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن إبراهيم بن داود قال: سألت الحسن ومحمدا عن بيع العطاء فقالا: بعه بعرض.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ سامان کے ساتھ بیچ سکتے ہو۔