حدیث نمبر: 22230
٢٢٢٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحسن قال: كان يقول: لا يجوز شهادة الأعمى، إلا أن يكون (شيئًا) (١) قد رآه قبل أن يذهب بصره.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نابینا کی گواہی دینا جائز نہیں ہاں مگر وہ اس چیز کی گواہی دے جس کو بینائی کے جانے سے قبل وہ دیکھ چکا ہو تو پھر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 22231
٢٢٢٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن الأسود (بن) (٢) قيس أن أبا (بصير) (٣) شهد (عند) (٤) علي وهو أعمى فرد شهادته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بصیر رحمہ اللہ جو نابینا تھے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے گواہی دی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کی گواہی رد فرما دی۔
حدیث نمبر: 22232
٢٢٢٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ (بن معاذ) (١) عن أشعث عن الحسن وابن سيرين قالا: شهادة الأعمى جائزة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ نابینا کی گواہی جائز ہے۔
حدیث نمبر: 22233
٢٢٢٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عبد الواحد بن زياد عن مجالد عن الشعبي قال: كان شريح يجيز شهادة الأعمى مع الرجل العدل إذا عرف الصوت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نابینا شخص اگر آوازوں کو پہچانتا ہو تو پھر اس کی گواہی ایک عادل کے ساتھ مل کر ٹھیک ہے۔
حدیث نمبر: 22234
٢٢٢٣٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن شعبة قال: سألت الحكم عن شهادة الأعمى فقال: رب شيء تجوز فيه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم رحمہ اللہ سے نابینا کی گواہی سے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کچھ چیزیں ایسی ہیں جن میں جائز ہے۔
حدیث نمبر: 22235
٢٢٢٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن ابن أبي ذئب عن الزهري أنه كان يجيز شهادة الأعمى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت امام زہری رحمہ اللہ نابینا کی گواہی کو جائز اور درست سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22236
٢٢٢٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (الحسن) (١) بن صالح وإسرائيل عن (عيسى) (٢) بن أبي (عزة) (٣) عن الشعبي أنه أجاز شهادة الأعمى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ نابینا کی گواہی کو درست سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22237
٢٢٢٣٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر (عن عامر) (١) قال: (تجوز) (٢) شهادة] (٣) الأعمى إذا كان عدلًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر نابینا شخص عادل ہو تو پھر اس کی گواہی قبول ہے۔
حدیث نمبر: 22238
٢٢٢٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (أن) (١) قتادة شهد عند إياس بن معاوية وهو أعمى فرد شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ جو نابینا تھا اس نے حضرت ایاس بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے گواہی تو آپ رضی اللہ عنہ نے اس کی گواہی کو رد فرما دیا۔
حدیث نمبر: 22239
٢٢٢٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شريك عن مغيرة قال: سألت إبراهيم عن شهادة الأعمى فحدث بحديث ظننًا أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم رحمہ اللہ سے نابینا شخص کی گواہی کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے مجھ سے ایک حدیث بیان فرمائی، میرا خیال ہے کہ آپ اس کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22240
٢٢٢٤٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يحيى بن سعيد قال: سألت الحكم] (١) (بن) (٢) (عتيبة) (٣) والقاسم بن محمد عن الأعمى: تجوز شهادته ويؤم القوم؟ قالا: وما يمنعه أن يؤم القوم، و (أن) (٤) يشهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن عتبیۃ القاسم بن محمد رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کیا نابینا کو گواہی اور امامت جائز ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ نابینا کی گواہی اور امامت سے کون سی چیز مانع ہے ؟