کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: گھر اور رہنے کی جگہ کا وقف کرنا
حدیث نمبر: 22210
٢٢٢١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن هشام بن عروة عن أبيه أن ⦗٤٨٥⦘ الزبير (وقف) (١) دارًا له على المردودة من بناته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے بیٹیوں میں سے جو مطلقہ تھی ان کے لئے اپنا گھر وقف کیا ہوا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22210
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22210، ترقيم محمد عوامة 21329)
حدیث نمبر: 22211
٢٢٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن القاسم بن (فضل) (١) عن أبي جعفر أن عليًا وعمر وقفا أرضا لهما بتا بتلًا (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنا گھر مطلقہ عورتوں کے لئے وقف کر رکھا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22211
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22211، ترقيم محمد عوامة 21330)
حدیث نمبر: 22212
٢٢٢١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سوار عن الوليد بن أبي هشام قال: قال عثمان: رباعي التي بمكة يسكنها بنيَّ و (يسكنونها) (١) من أحبوا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا مکان جو مکہ مکرمہ میں ہے، اس میں میرے بیٹے اور جو رہنا چاہے وہ رہ سکتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22212
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22212، ترقيم محمد عوامة 21331)
حدیث نمبر: 22213
٢٢٢١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: الحبس بمنزلة العتق هو للَّه في الدار والعقار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی چیز کا وقف کرنا آزاد کرنے کی طرح ہے، گھر اور زمین وغیرہ وقف کرنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22213
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22213، ترقيم محمد عوامة 21332)
حدیث نمبر: 22214
٢٢٢١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن عون عن نافع عن ابن عمر قال: أصاب عمر أرضا بخيبر فأتى النبي ﷺ فقال (١): أصبت أرضًا بخيبر لم أصب مالًا قط أنفس منه عندي، فما تأمرني؟ قال: (إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها)، قال: فتصدق بها، (غير) (٢) أنه لا يباع أصلها، ولا يوهب، ولا يورث (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں زمین ( مال غنیمت میں ) ملی، وہ آپ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اور مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ مال کبھی نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : اگر تو چاہے تو اصل زمین کو روک کر رکھ لے اور اس کے ذریعہ صدقہ خیرات کرتا رہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے ذریعہ صدقہ خیرات کیا۔ اصل زمین کو نہیں بیچا جائے گا اور نہ ہی ھبہ کیا جائے گا۔ نہ ہی وہ کسی کو وراثت میں دی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22214
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٧٣٧)، ومسلم (١٦٣٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22214، ترقيم محمد عوامة 21333)
حدیث نمبر: 22215
٢٢٢١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد وحفص (عن حميد) (١) عن أنس أن أبا طلحة أتى النبي ﷺ فقال: إني جعلت حائطي للَّه، ولو استطعت أن أخفيه (ما أظهرته) (٢) فقال النبي ﷺ: "أجعله في فقراء أهلك" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنا باغ اللہ کی راہ میں وقف کردیا ہے، اگر میں اس کو پوشیدہ رکھنے کی طاقت رکھتا تو اس کو کبھی ظاہر نہ کرتا، آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا : اس کو اپنے اہل و عیال میں جو فقراء ہیں ان کے لئے وقف کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22215
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٢١٤٤)، والترمذي (٢٩٩٧)، وابن خزيمة (٢٤٥٨)، وعبد ابن حميد (١٤١٣)، وأبو يعلى (٢٨٦٥)، وابن جرير ٣/ ٣٤٨، والدارقطني ٤/ ١٩١، وأخرجه بنحوه البخاري (١٤٦١)، ومسلم (٩٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22215، ترقيم محمد عوامة 21334)
حدیث نمبر: 22216
٢٢٢١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن طاوس عن أبيه قال: ألم تر أن حجرًا (المدري) (١) أخبرني أن في صدقة رسول اللَّه ﷺ: (يأكل منها) (٢) (أهله) (٣) بالمعروف غير المنكر (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ کیا آپ کو نہیں معلوم کہ حضرت حجر المدری رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اکرم ﷺ کے صدقہ میں سے ان کے اہل و عیال اچھے طریقہ سے کھایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22216
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حجر تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22216، ترقيم محمد عوامة 21335)