کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جن حضرات نے شکاری کتے کی قیمت ( ثمن) وصول کرنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 22192
٢٢١٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (سعيد) (١) عن إبراهيم قال: لا بأس بثمن كلب الصيد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شکاری کتے کے ثمن میں کوئی حرج نہیں ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22192
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22192، ترقيم محمد عوامة 21312)
حدیث نمبر: 22193
٢٢١٩٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عطاء قال: لا بأس بثمن (كلب) (١) السلوقي] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یمنی کتے کی قیمت وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22193
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22193، ترقيم محمد عوامة 21313)
حدیث نمبر: 22194
٢٢١٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن زكريا بن أبي زائدة عن ابن جريج عن عطاء قال: إن قتلت كلبًا ليس بعقور فاغرم لأهله ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر تو ہڑکائے کتے کے علاوہ کسی دوسرے کتے کو مار دے تو اس کے مالک کو اس کی قیمت کا جرمانہ ادا کر۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22194
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22194، ترقيم محمد عوامة 21314)
حدیث نمبر: 22195
٢٢١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان قال: كان الناس يقضون (في الكلب) (١) بأربعين درهمًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن یحییٰ بن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگ ( فقہاء کرام s ) ( کتے کو مارنے کی صورت میں ) چالیس درہم کا فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22195
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22195، ترقيم محمد عوامة 21315)
حدیث نمبر: 22196
٢٢١٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن يعلى بن عطاء عن إسماعيل ابن (جستاس) (١) عن عبد اللَّه بن عمرو قال (٢): في كلب الصيد (أربعون) (٣) درهمًا، وفي كلب الماشية شاة من الغنم، وفي كلب الحرث فرق من طعام، وفي كلب ⦗٤٨٢⦘ الدار فرق من تراب، حق على الذي أصابه أن يعطيه، وحق على صاحب الدار (٤) أن يقبله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ شکاری کتے کو مارنے کی صورت میں چالیس درہم لازم ہے، اور مویشیوں کے کتے میں ایک بکری، کھیتی باڑی والے کتے میں کھانا تقسیم کرنا ہے اور گھریلو کتے میں مٹی تقسیم کرنا ہے جس نے مارا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ دے اور کتے کے مالک پر لازم ہے کہ وہ وصول کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22196
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22196، ترقيم محمد عوامة 21316)
حدیث نمبر: 22197
٢٢١٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس بثمن كلب الصيد.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کتے کی قیمت وصول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22197
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22197، ترقيم محمد عوامة 21317)