کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس شخص کے بارے میں جو ایک جماعت کے ساتھ لکھت پڑت کرے (یعنی کسی معاملہ، تجارت وغیرہ میں ایک سے زیادہ آدمیوں سے تحریری معاہدہ کرے)
حدیث نمبر: 22139
٢٢١٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي زائدة عن إسرائيل عن طارق ابن عبد الرحمن عن شريح قال: شهدته وجاءه (رجل) (١) فقال: إني اكتتبت على هذا وعلى رجلين معه: أيهم شئتُ أخذتُ بحقي، فقال الرجل: إن صاحبيَّ في السوق (٢)، فقال: خذ أيَّهم (شئت) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طارق بن عبد الرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس حاضر تھا کہ ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ میں نے اس آدمی اور نیز اس علاوہ دو آدمی اور تھے جن کے ساتھ تحریری معاہدہ کیا تھا۔ کیا میں ان میں سے جس سے چاہوں اپنا حق وصول کرسکتا ہوں ؟ اس آدمی نے کہا کہ میرے دونوں ساتھی بازار میں ہیں، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جس مرضی سے تو چاہے اپنا حق وصول کرلے۔
حدیث نمبر: 22140
٢٢١٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: اكتتبت على رجلين (في بيع) (٢) أن حيَّكما على ميتكما (و) (٣) مَلِيكما (٤) على معدمكما، قال: يجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ ، تجارت میں دو آدمیوں پر نام درج کروایا ہے۔
حدیث نمبر: 22141
٢٢١٤١ - و (قاله) (١) عمرو بن دينار وسليمان بن موسى.
حدیث نمبر: 22142
٢٢١٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن (عبيدة) (١) عن إبراهيم أنه سئل عن النفر يكتب عليهم الصك: أيهم شاء أخذ بجميع حقه، قال: هو على شرطه، أيهم شاء أخذ يحميع حقه، وكان إبراهيم يستحب أن يأخذ من كل إنسان منهم بحصته و (قال:) (٢) وهو أعدل.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کچھ آدمیوں کے متعلق اقرار نامہ لکھا گیا ہے، ان میں سے کس سے اپنا مکمل حق وصول کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا کہ وہ تو شرط پر ہے ( جو طے ہوا تھا) جس سے چاہے اپنا پورا حق وصول کرلے۔ اور ابراہیم رحمہ اللہ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ ان میں سے ہر شخص سے اس کے حصہ کے بقدر وصول کیا جائے، اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ انصاف کے زیادہ قریب ہے۔
حدیث نمبر: 22143
٢٢١٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن زهير عن جابر عن الحكم في الرجل يكون له الحق على القوم يقول: أيَّهم شئتُ أخذتُ بجميع حقي قال: هذا بمنزلة الكفيل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں کہ جس کا ایک قوم پر حق ہو، فرماتے ہیں کہ جس سے چاہوں پورا حق وصول کرسکتا ہوں وہ سب بمنزلہ کفیل کے ہیں۔
حدیث نمبر: 22144
٢٢١٤٤ - ٢٢٢٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن أبي (الجهم) (١) قال: كتبت ذكر حق على عدة: أيهم شئت أخذت بحقي، فقدمتهم إلى شريح فقال: خذ أيهم شئت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جہم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں پر اپنا حق لکھا تھا کہ ان میں سے کس سے اپنا مکمل حق وصول کرسکتا ہوں، پس میں ان کو حضرت شریح کے پاس لے گیا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا جس سے چاہو وصول کرلو۔