کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی نے کسی کا قرضہ دینا ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ وہ کہا ں ہے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22037
٢٢٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: (إن) (١) كان عليك دين لرجل فلم تدر أين هو؟ وأين وارثه؟ فتصدق به عنه فإن جاء فخيرّه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر تم پر کسی آدمی کا قرضہ ہو اور تمہیں معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے یا اس کے ورثاء کہاں ہیں تو اس کی طرف سے صدقہ کردو، اس کے بعد اگر وہ آجائے تو اسے اختیار دے دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22037
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22037، ترقيم محمد عوامة 21166)
حدیث نمبر: 22038
٢٢٠٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن شعبة عن عبد اللَّه بن (حنش) (١) عن ابن عمر في رجل هلك وعليه دين لا يعرف صاحب الدين، فأمر أن يتصدق عنه بذلك الدين (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن حنش فرماتے ہیں کہ ایک آدمی ہلاک ہوگیا اور اس پر قرضہ تھا، قرضہ دینے والا کو علم نہ تھا کہ وہ کہاں ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حکم دیا کہ قرضے کے برابر رقم اس کی طرف سے صدقہ کردے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22038
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22038، ترقيم محمد عوامة 21167)
حدیث نمبر: 22039
٢٢٠٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحسن قال: إذا مات الرجل وعليه دين فلم يدر (١) وارثه فليجعله في سبيل اللَّه، (فإن) (٢) كان (مسلما) (٣) فلم يدر (٤) وارثه فليتصدق به عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب کوئی مرجائے اور اس پر قرضہ ہو اور معلوم نہ ہو کہ اس کے ورثہ کہاں ہیں تو وہ قرضہ اللہ کے راستے میں خرچ کردیا جائے اور اگر وہ مسلمان ہو اور معلوم نہ ہو کہ اس کے ورثاء کہاں ہیں تو اس کی طرف سے صدقہ کردیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22039
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22039، ترقيم محمد عوامة 21168)
حدیث نمبر: 22040
٢٢٠٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عامر (بن) (١) شقيق عن أبي وائل قال: اشترى عبد اللَّه جارية بسبعمائة درهم فغاب صاحبها (فعرفها) (٢) سنة (أو) (٣) قال: حولا -ثم خرج إلى المسجد وجعل يتصدق ويقول: اللهم فله، فإن ⦗٤٤٥⦘ (أبى) (٤) (فعليّ وإلي) (٥)، ثم قال: هكذا فاصنعوا باللقطة أو بالضالة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے سات سو درہم میں ایک باندی خریدی، ابھی رقم کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی کہ باندی کا مالک غائب ہوگیا، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہایک سال تک اس کا اعلان کراتے رہے، پھر وہ مسجد گئے اور اس کی قیمت صدقہ کرنا شروع کی، ساتھ ساتھ کہتے جاتے تھے کہ اے اللہ ! یہ اس کی طرف سے ہے، اگر وہ آگیا تو میری طرف اور مجھ پر لازم ہوگا، پھر فرمایا کہ ہرگری پڑی یا گمشدہ چیز کے ساتھ یونہی کیا کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22040
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22040، ترقيم محمد عوامة 21169)