کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص وارث یا غیر وارث کے لئے قرض کا اقرار کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22001
٢٢٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ليث عن طاوس قال: إذا أقر لوارث بدين جاز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جب آدمی نے وارث کے لئے قرض کا اقرار کیا تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 22002
٢٢٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عامر الأحول قال: سئل الحسن (عنه) (١) فقال: أحملها إياه، ولا (أتحمّلها) (٢) عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اسے اس پر لازم کرتا ہوں اس سے دور نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 22003
٢٢٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن أبي ليلى عن الحكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم، ابراہیم، حضرت شعبی اور حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر مرض الوفات میں کوئی شخص کسی وارث کے لئے قرض کا اقرار کرے تو گواہی کے بغیر جائز نہیں اور اگر غیر وارث کے لئے کیا تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 22004
٢٢٠٠٤ - وعن منصور عن إبراهيم.
حدیث نمبر: 22005
٢٢٠٠٥ - وعن سفيان عن جابر عن الشعبي عن شريح.
حدیث نمبر: 22006
٢٢٠٠٦ - (وعن سفيان عن منصور عن إبراهيم) (١) (قالوا) (٢): إذا أقر في مرض لوارث بدين لم يجز إلا ببينة، (وإذا) (٣) أقر لغير وارث جاز.
حدیث نمبر: 22007
٢٢٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن (حباب) (١) حدثنا حماد بن سلمة عن قتادة عن ابن (أذينة) (٢) في الرجل يقر لوارث بدين، قال: لا يجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اذینہ فرماتے ہیں کہ وارث کے لئے قرضہ کا اقرار جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 22008
٢٢٠٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء قال: لا يجوز إقرار المريض (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مریض کا اقرار جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 22009
٢٢٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب قال: حدثنا حماد بن سلمة عن قيس بن سعد عن عطاء في رجل أقر لوارث بدين، قال: جائز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ وارث کے لئے قرض کا اقرار جائز ہے۔
حدیث نمبر: 22010
٢٢٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد العزيز بن عبيد اللَّه عن الشعبي عن شريح أنه كان يجيز اعتراف الرجل عند موته بالدين لغير وارث، ولا (يجيزه) (١) لوارث إلا ببينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ موت کے وقت غیر وارث کے لئے قرض کا اقرار جائز ہے لیکن وارث کے لئے بغیر گواہی کے جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 22011
٢٢٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمر بن أيوب الموصلي عن جعفر عن ميمون قال: إذا أقر الرجل بدين في مرضه فأرى أن يجوز عليه؛ لأنه لو أقر به وهو صحيح (جاز) (١) (وأصدق) (٢) ما يكون عند موته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمون فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرض میں قرض کا اقرار کرے تو جائز ہے، کیونکہ اگر حالت صحت میں کرتا تو بھی جائز ہوتا اور جب حالت مرض میں کررہا ہے تو بطریقِ اولیٰ جائز ہونا چاہئے۔