کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اگر ایک آدمی کسی دوسرے آدمی سے کوئی چیز خریدے، بائع کچھ چیز اس کے حوالے کردے لیکن مشتری اس پر قبضہ نہ کرے پھر وہ چیز بائع کے پاس ضائع ہوجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21881
٢١٨٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن عمرو بن (حريث) (١) أن رجلًا اشترى جارية بستين دينارا، فنقد ثلاثين، ⦗٤١٥⦘ وارتهنها البائع بالبقية، فمكث أياما ثم أتى المشتري بثمنها فوجدها قد ماتت، فقال: ما أخذ البائع فله، وأما البقية فللمشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ساٹھ دینار کے بدلے ایک باندی خریدی، تیس دینار نقد دیئے اور باقی کے بدلے بائع کے پاس اسے رہن رکھوا دیا، کچھ دن بعد مشتری باقی پیسے لے کر آیا تو دیکھا کہ وہ باندی مرچکی ہے، اس صورت میں حضرت عمرو بن شریح نے فیصلہ فرمایا کہ جن پر بائع نے قبضہ کیا ہے وہ بائع کے ہیں اور جو باقی ہیں وہ مشتری کے ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21881
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21881، ترقيم محمد عوامة 21023)
حدیث نمبر: 21882
٢١٨٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن محمد بن عبيد اللَّه الثقفي أن شريحًا قال: فيها (يرد) (١) البائع ما أخذ من ثمنها ويدفن جيفته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح اس صورت میں فرماتے ہیں کہ بائع نے جو قیمت لی ہے وہ اس سے واپس نہیں لی جائے گی اور اس کی نعش کو دفن کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21882
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21882، ترقيم محمد عوامة 21024)
حدیث نمبر: 21883
٢١٨٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي أن قول عمرو بن حريث كان أعجب إليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ عمرو بن حریث کا قول مجھے زیادہ پسند ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21883
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21883، ترقيم محمد عوامة 21025)
حدیث نمبر: 21884
٢١٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن سفيان عن منصور عن إبراهيم في رجل اشترى من رجل جارية فنقد بعض ثمنها وأمسكها البائع بالبقية فماتت، قال: يرد على المشتري ما أخذ، وهي من مال البائع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے ایک باندی خریدی، قیمت کا کچھ حصہ تو نقد ادا کردیا اور باقی مال کے بدلے وہ بائع کے پاس رکھوا دی، پھر اس باندی کا انتقال ہوگیا تو اس بارے میں ابراہیم نے فرمایا کہ مشتری سے لی گئی رقم اس کو واپس کی جائے گی اور نقصان بائع کے مال میں سے ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21884
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21884، ترقيم محمد عوامة 21026)
حدیث نمبر: 21885
٢١٨٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن ومحمد قالا: إن كان نقد بعض الثمن وارتهن المتاع بالبقية، فهلك المتاع فهو بما ارتهنه، وله ما كان قد أخذ، فإن كان بيعا مما يكال ويوزن (فضمانه) (١) على البائع حتى يوفيه المشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ اگر قیمت کا کچھ حصہ نقد دے دیا تھا اور باقی حصہ کے بدلے سامان رہن کے طور پر رکھوا دیا ، پھر سامان ہلاک ہوگیا تو وہ اس چیز کے بدلے ہوگا جو مزید دینی تھی اور بائع جو وصول کرچکا ہے وہ اسی کا ہوگا، اگر کوئی چیز ایسی تھی جسے تولایاماپا جاتا ہے تو اس کا نقصان بائع کے ذمہ ہوگا یہاں تک کہ مشتری اسے پورا کرلے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21885
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21885، ترقيم محمد عوامة 21027)