حدیث نمبر: 21845
٢١٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود (١) الطيالسي عن هشام الدستوائي ⦗٤٠٨⦘ عن يحيى بن أبي كثير أن عمر أرسل (غلاما له) (٢) أو (عبدا له) (٣) بصاع من (تمر) (٤) يشتري له به صاعا من شعير، وزجره: إن زادوه أن يزداد (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو کھجوروں کا ایک صاع دے کر بھیجا کہ اس کے بدلے ایک صاع جو لے آئے، آپ نے اسے سختی سے منع کیا کہ ایک صاع سے زیادہ بالکل نہ لینا۔
حدیث نمبر: 21846
٢١٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق عن أبي عبد الرحمن أنه كان يكره قفيزا من بر بقفيزين من شعير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن اس بات کو مکروہ قرار دیتے تھے کہ ایک قفیز گندم کے بدلے دو قفیز جو حاصل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 21847
٢١٨٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة عن ليث عن نافع عن سليمان بن يسار عن عبد الرحمن بن الأسود بن عبد يغوث الزهري أنه (أتاه غلامه) (١) (فأخبره) (٢) بأن دابته قد فنى شعيرها، (فأمره) (٣) أن يأخذ (من) (٤) حنطة أهله فيشتري له شعيرًا ولا يأخذ إلا مثلا بمثل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث کے پاس ان کا غلام آیا اور اس نے بتایا کہ ان کی سواری کے جو ختم ہوگئے ہیں، آپ نے اسے حکم دیا کہ گندم لے کر جائے اور اس کے بدلے جو خرید لے، اور اس سے فرمایا کہ برابر سرابرلے زیادہ نہ لے، حضرت سلیمان بن یسار نے اسی طرح حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 21848
٢١٨٤٨ - ٢١٩٠٨ - قال: نافع: وأخبرني سليمان بن يسار بمثلها عن (سعد) (١) بن أبي وقاص (٢).