کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21763
٢١٧٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير (عن) (١) منصور عن إبراهيم في النفر يكاتبون جميعا فيموت بعضهم قال: (يسعى) (٢) الباقون فيما كاتبوا عليه جميعًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے سوال کیا گیا کہ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ باقی غلام مل کر بدل کتابت کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے۔
حدیث نمبر: 21764
٢١٧٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث قال: سألت (عمرا) (١): ما كان الحسن يقول في الرجل كاتب مماليكه جميعا فيموت بعضهم؟ قال: يرفع عنهم بالحصة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حفص بن غیاث سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے سوال کیا کہ حسن کی کیا رائے تھی کہ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان سے ان کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 21765
٢١٧٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (الأشعث) (١) عن الشعبي في رجل كاتب عبدين له فمات أحدهما قال: يرفع عنه بالحصة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے دو غلاموں کو مکاتب بنایا اور پھر ان میں سے ایک مرگیا تو اس کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔
حدیث نمبر: 21766
٢١٧٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن ابن أبي (غنية) (١) عن الحكم في الرجل يكاتب أهل البيت جميعا فيموت بعضهم، قال: يرفع (٢) بالحصة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے سوال کیا گیا کہ اگر غلاموں کی ایک جماعت کو مکاتب بنایا جائے اور ان میں سے کچھ مرجائیں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ان کا حصہ ساقط ہوجائے گا۔