٢١٦٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عبد اللَّه بن دينار عن ابن (عمر) (١) قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن بيع الولاء و (عن) (٢) هبته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کی بیع اور اس کے ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
٢١٦٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير وحفص وأبو خالد عن عبد الملك بن أبي سليمان عن عطاء عن ابن عباس قال: الولاء (لا) (١) يباع ولا يوهب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ولاء کو نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٢١٦٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه (إنما) (١) الولاء كالنسب، أيبيع الرجل نسبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے، کیا آدمی اپنے نسب کو بیچ سکتا ہے ؟
٢١٦٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: قال (علي) (١): الولاء بمنزلة الحلف، لا يباع ولا يوهب، (أقروه) (٢) حيث (جعله اللَّه) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولاء حلف کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے، اسے وہیں رکھو جہاں اللہ تعالیٰ نے اسے مقرر کردیا ہے۔
٢١٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) محمد بن يزيد عن أيوب أبي العلاء عن قتادة عن (عمر) (٢) قال: الولاء كالرحم لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ولاء رحم کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٢١٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد عن داود عن سعيد بن المسيب قال: الولاء كالنسب لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٢١٦٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن أبي مسكين عن إبراهيم قال: الولاء لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٢١٦٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا إسماعيل بن إبراهيم عن ليث عن طاوس قال: لا يباع الولاء ولا يوهب ولا يتصدق (به) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ ولاء کو نہ بیچا جاسکتا ہے، نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے صدقہ کیا جاسکتا ہے۔
٢١٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن ومحمد قالا: الولاء لحمة (كلحمة النسب) (١) لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور محمد فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی ایک قسم ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٢١٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب قال: كان لا يرى بأسا (ببيع) (١) الولاء إذا كان من (مكاتبه) (٢) ويكرهه إذا كان (عتقا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ جب ولاء مکاتبت کی وجہ سے ہو تو اسے بیچنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر عتق کی وجہ سے ہو تو مکروہ ہے۔
٢١٦٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: الولاء لا يباع ولا يوهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ولاء کو نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
٢١٦٩٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد بن غفلة قال: الولاء كالنسب لا يباع ولا يوهب] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ ولاء نسب کی طرح ہے، اسے نہ بیچا جاسکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جاسکتا ہے۔