کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر ایک آدمی دوسرے کو کپڑا دے اور اس سے کہا کہ اسے اتنے کا بیچ دے جو زیادہ ہوا وہ تیرا ہے
حدیث نمبر: 21613
٢١٦١٣ - [حدثنا أبو عبد الرحمن (بقي) (١) بن مخلد قال: (نا) (٢) أبو بكر ⦗٣٥٦⦘ (عبد اللَّه بن محمد) (٣) بن أبي شيبة قال] (٤): نا هشيم بن (بشير) (٥) عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس أنه كان لا يرى بأسا أن يعطي الرجل الرجل الثوب فيقول: بعه بكذا وكذا، فما ازددت (فلك) (٦) (٧).
حدیث نمبر: 21614
٢١٦١٤ - حدثنا هشيم عن يونس عن ابن سيرين أنه لم يكن ير (ى) (١) (بذلك) (٢) بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21615
٢١٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) وكيع عن أبي المطرف عن أبيه عن جده عن شريح أنه لم يكن ير (ى) (٢) (٣) بأسا أن يعطيه الثوب فيقول: بع هذا الثوب بكذا وكذا فما ازددت ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دوسرے کو کپڑا دے اور اس سے کہے کہ اس کپڑے کو اتنے روپے کا میری طرف سے بیچ دو اور جو زیادہ ہو وہ تمہارا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21616
٢١٦١٦ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر أنه لم يكن ير (ى) (٢) بذلك بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر اس معاملہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21617
٢١٦١٧ - حدثنا أبو بكر قال: (ثنا) (١) عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا (دفع) (٢) الرجل إلى الرجل متاعا فقا (ل) (٣): ما استفضلت فهو لك، (أو) (٤) فبيني (٥) وبينك، فلا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ ایک آدمی دوسرے کو کچھ سامان دے اور اس سے کہے کہ جو تم زیادہ کھالو وہ تمہارا ہے یا ہم دونوں میں برابر تقسیم ہوگا۔
حدیث نمبر: 21618
٢١٦١٨ - حدثنا أبو بكر قال: (نا) (١) (حميد) (٢) بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن رجل عن الحكم في الرجل يعطي الرجل الثوب فيقول: بعه بكذا (وكذا) (٣) فما زاد (فهو بيني) (٤) وبينك، (قال) (٥): لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی دوسرے کو ایک کپڑا دے اور اس سے کہے کہ اسے اتنے اتنے میں بیچ دو اور اگر اس سے زیادہ بیچو تو وہ ہم دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21619
٢١٦١٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور ابراہیم نے اس معاملہ کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 21620
٢١٦٢٠ - وعن (١) يونس عن الحسن أنهما (كرهاه) (٢).
حدیث نمبر: 21621
٢١٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حكام الرازي عن المثنى عن عطاء أنه كان لا يرى بذلك بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء اس معاملے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے جبکہ حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ جب تک اجر معلوم نہ ہو یہ مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 21622
٢١٦٢٢ - قال: وكان طاوس يكرهه إلا بأجر معلوم.
حدیث نمبر: 21623
٢١٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد القطان عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يدفع إلى الرجل الثوب فيقول: بعه بكذا وكذا (فما استفضلت) (١) (فهو لك) (٢) قال: إن كان بنقد فلا بأس، وإن كان بنسيئة فلا خير فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی دوسرے کو کپڑا دے اور اس سے کہے کہ اسے اتنے اتنے کا بیچ دو جو زیادہ ہو وہ تمہارا ہے اگر یہ نقد ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور اگر ادھار کے ساتھ ہو تو اس میں کوئی خیر نہیں۔