٢١٦٠٣ - حدثنا حدثنا (أبو أسامة عن) (١) عبد (الرحمن) (٢) بن يزيد بن جابر ⦗٣٥٢⦘ قال: (نا) القاسم عن أبي (أمامة) (٣) قال: نهى رسول اللَّه ﷺ أن يحتكر الطعام (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کا ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا۔
٢١٦٠٤ - حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن التيمي عن (أبي) (١) (نضرة) (٢) أبي سعيد مولى الأنصار عن عثمان بن عفان أنه نهى عن الحكرة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا۔
٢١٦٠٥ - حدثنا عبدة بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن سعيد بن المسيب عن معمر بن (١) (نضلة) (٢) العدوي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يحتكر إلا خاطئ" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر بن نضلہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذخیرہ اندوزی کوئی گناہ گار ہی کرسکتا ہے۔
٢١٦٠٦ - حدثنا يحيى بن سعيد (القطان) (١) عن (يحيى) (٢) بن سعيد عن سعيد ⦗٣٥٣⦘ ابن المسيب عن ابن (عمر) (٣) قال: الحكرة خطيئة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ذخیرہ اندوزی گناہ ہے۔
٢١٦٠٧ - حدثنا حفص بن غياث عن ليث عن عبيد اللَّه قال: قال عمر: من احتكر طعاما ثم تصدق برأس ماله والربح لم يكفر عنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے کھانا ذخیرہ کیا پھر اصل مال اور نفع کو صدقہ کردیا تو اس سے کفارہ نہیں لیا جائے۔
٢١٦٠٨ - حدثنا جرير عن ليث عن الحكم قال: أخبر عليُ برجل احتكر طعاما (بمائة ألف) (١)، فأمر به أن يحرق (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خبر دی گئی کہ ایک آدمی نے ایک لاکھ کا غلہ ذخیرہ کر رکھا ہے انہوں نے اسے جلانے کا حکم دے دیا۔
٢١٦٠٩ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي عن الحسن (بن) (١) الحكم عن عبد الرحمن بن قيس (قال:) (٢) قال (حبيش) (٣): (قد) (٤) (أحرق) (٥) (علي) (٦) على (بيادر) (٧) بالسواد كنت (احتكرتها) لو (تركها) (٨) ⦗٣٥٤⦘ (لربحت) (٩) (مثل) (١٠) عطاء الكوفة (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حبیش کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے میرے اس غلے کو جلانے کا حکم دیا جو میں نے ذخیرہ کیا تھا، اگر وہ اسے چھوڑ دیتے تو میں اس میں سے پورے کوفہ کے غلے کے برابر نفع حاصل کرلیتا۔
٢١٦١٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن إبراهيم (بن) (١) مهاجر عن عبد اللَّه بن (باباه) (٢) عن (عبد اللَّه) (٣) بن عمرو قال: لا (يحتكر) (٤) إلا خاطئ (أو) (٥) (باغ) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ذخیرہ اندوزی کوئی گناہ گار یا سرکش ہی کرسکتا ہے۔
٢١٦١١ - حدثنا (عبيد اللَّه) (١) بن موسى عن الربيع (بن) (٢) حبيب عن نوفل ابن عبد الملك عن أبيه عن علي قال: نهى رسول اللَّه ﷺ عن الحكرة (بالبلد) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ذخیرہ اندوزی سے منع فرمایا ہے۔
٢١٦١٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا الأصبغ بن (زيد) (١) الوراق قال: (نا) (٢) أبو (بشر عن أبي) (٣) (الزاهرية) (٤) عن كثير بن مرة الحضرمي عن ابن عمر عن النبي ﵇ (٥) قال: "من احتكر طعاما (أربعين) (٦) ليلة فقد برئ من اللَّه وبرئ اللَّه منه، أيّما أهل (عرصة) (٧) ظل فيهم (٨) امرؤ جائع فقد برئت منهم ذمة اللَّه" (٩) (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے چالیس دن تک کھانا ذخیرہ کیا تو وہ اللہ سے بری ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے بری ہے، وہ صاحب حیثیت لوگ جن میں کوئی بھوکا زندگی گزار رہا ہو اللہ پر ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔