حدیث نمبر: 21543
٢١٥٤٣ - حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر بن (محمد) (١) عن أبيه أن الحسن (والحسين) (٢) (كانا) (٣) يقبلان جوائز معاوية (٤).
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ فرماتے ہیں کہ حضرات حسنین رضی اللہ عنہ ما ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے آنے والے پھلوں کو قبول کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 21544
٢١٥٤٤ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن حبيب قال: رأيت (١) ابن عمر وابن عباس يأتيهما هدايا المختار (فيقبلانها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس مختار ثقفی کے ہدایا آتے تھے اور وہ انہیں قبول کرلیتے تھے۔
حدیث نمبر: 21545
٢١٥٤٥ - حدثنا جرير (عن مغيرة) (١) عن (سماك) (٢) بن سلمة عن عبد الرحمن ابن عصمة قال: كنت عند عائشة (فأتاها) (٣) رسول من عند معاوية ⦗٣٣٧⦘ (بهدية) (٤) (فقبلتها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الرحمن بن عصمہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا کہ ان کے پاس حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے قاصد ہدیہ لے کر آیا، انہوں نے اس ہدیہ کو قبول فرما لیا۔
حدیث نمبر: 21546
٢١٥٤٦ - حدثنا يحيى بن (١) زكريا بن أبي زائدة عن حجاج عن عطاء (أن) (٢) عائشة بعث إليها معاوية قلادة قومت (بمائة ألف) (٣) فقبلتها وقسمتها بين أمهات المؤمنين (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف ایک ایسا ہار بھیجا جس کی قیمت تقریباً ایک لاکھ تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس ہا رکو قبول فرما لیا اور اسے امہات المؤمنین g میں تقسیم کردیا۔
حدیث نمبر: 21547
٢١٥٤٧ - حدثنا يحيى بن سعيد (عن سفيان) (١) عن عبد الملك بن عمير قال: أرسل معي (بشر) (٢) بن مروان بخمسمائة (٣) إلى (خمسة) (٤) أناس: إلى أبي جحيفة و (إلى) (٥) أبي (رزين) (٦) وعمرو بن ميمون ومرة وأبي عبد الرحمن، فردها أبو (رزين) (٧) و (أبو) (٨) (جحيفة) (٩) وعمرو بن ميمون ⦗٣٣٨⦘ وقبلها (الآخران) (١٠) (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں کہ بشر بن مروان نے مجھے پانچ سو درہم دئیے کہ میں انہیں حضرت ابو جحیفہ، حضرت ابو رزین، حضرت عمرو بن میمون، حضرت مرہ اور حضرت ابو عبد الرحمن میں تقسیم کر دوں، حضرت ابو رزین ، حضرت ابو جحیفہ اور حضرت عمرو بن میمون رضی اللہ عنہ م نے یہ پیسے واپس کر دئیے اور باقی حضرات نے قبول فرما لیے۔
حدیث نمبر: 21548
٢١٥٤٨ - حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن عبد الملك بن عمير ذكر نحو حديث يحيى بن سعيد (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 21549
٢١٥٤٩ - حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين قال: سمعت الحسن وسأله رجل (قال) (١): (إني آتي) (٢) العامل (فيعطيني) (٣) و (يجيزني) (٤)؟ فقال: خذها - (لا) (٥) (أبا) (٦) لك- وانطلق.
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ میں عامل کے پاس جاتا ہوں تو وہ مجھے عطا کرتا ہے کیا میں اسے قبول کرلوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ تمہارا ناس ہو روپے لو اور چلے جاؤ۔
حدیث نمبر: 21550
٢١٥٥٠ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) إسماعيل (عن) (٢) قيس قال: دخلت مع (أبي على) (٣) أبي بكر نعوده و (هو) (٤) مريض فحملنا على فرسين، ورأيت أسماء ⦗٣٣٩⦘ (موسومة) (٥) (اليدين) (٦) (تذب) (٧) عنه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوا، انہوں نے ہمیں واپسی پر دو گھوڑوں پر سوار کیا، میں حضرت اسماء کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ پر وسمہ لگا ہوا تھا اور وہ اسے ہٹا رہی تھیں۔
حدیث نمبر: 21551
٢١٥٥١ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) سفيان عن منصور وإبراهيم بن مهاجر أن إبراهيم وتميم بن سلمة خرجا إلى (عامل) (٢) ففضل [(تميمًا) (٣) على إبراهيم] (٤) في الجائزة فغضب إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت ابراہیم اور حضرت تمیم بن سلمہ ایک عامل کے پاس گئے، اس عامل نے حضرت تمیم کو ابراہیم سے زیادہ تحفے دئیے جس پر ابراہیم کو غصہ آیا۔
حدیث نمبر: 21552
٢١٥٥٢ - حدثنا يزيد عن شعبة عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه أن خالد ابن (أسيد) (١) بعث إلى مسروق بثلاثين ألفًا فردها (فقالوا) (٢) له: لو أخذتها فتصدقت بها (ووصلت) (٣) بها! فأبى أن يأخذها.
مولانا محمد اویس سرور
خالد بن سیف نے مسروق کی طرف تیس ہزار درہم بھیجے، انہوں نے وہ واپس کر دئیے ان سے کسی نے کہا کہ آپ یہ قبول کر کے انہیں صدقہ کردیں، لیکن پھر بھی انہوں نے وہ درہم لینے سے انکار کردیا۔
حدیث نمبر: 21553
٢١٥٥٣ - [حدثنا عبدة عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن عكرمة أنه كان لا يرى بجوائز العمال بأسًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ گورنروں کے تحفے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21554
٢١٥٥٤ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم أنه ركب إلى عامل فأجازه وحمله على دابة فقبلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ ابراہیم ایک عامل کے پاس گئے، اس عامل نے انہیں انعام دئیے اور ایک سواری پر سوار کیا، ابراہیم نے سب کچھ قبول کرلیا۔
حدیث نمبر: 21555
٢١٥٥٥ - حدثنا وكيع عن يونس عن مخول عن أبي جعفر قال: (لا) (١) (بأس) (٢) (بجوائز) (٣) العمال.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ عمال کے ہدیے قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21556
٢١٥٥٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: (لا بأس) (١) (بجوائز) (٢) (العمال) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ عمال کے ہدایا قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21557
٢١٥٥٧ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة (١) عن (حميد) (٢) أن ابن هبيرة أجاز الحسن وبكرا فقبلا، (وأجاز) (٣) محمدا فلم يقبل منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں ل کہ ابن ہبیرہ نے حسن رحمہ اللہ اور حضرت بکر کو تحائف بھجوائے۔ ان دونوں حضرات نے قبول کرلیے لیکن جب محمد کو بھجوائے تو انہوں نے قبول نہیں کیے۔
حدیث نمبر: 21558
٢١٥٥٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن حبيب أن رجلا بعث إلى (ذر) (١) بجا (ئزة) (٢) فقال للرسول: (ألكل) (٣) مسلم بعث بهذا؟ فقال: لا، ⦗٣٤١⦘ (فقال) (٤): رده، (وقال) (٥): ﴿كَلَّا إِنَّهَا لَظَى (٦) (١٥) نَزَّاعَةً لِلشَّوَى﴾ [المعارج: ١٥ - ١٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ذر کو ایک تحفہ بھجوایا، انہوں نے قاصد سے پوچھا کہ کیا اس نے ہر مسلمان کو یہ ہدیہ بھیجا ہے، اس آدمی نے نفی میں جواب دیا اور حضرت ذر نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا اور یہ آیت پڑھی : { کَلاَّ إِنَّہَا لَظَی نَزَّاعَۃً لِلشَّوَی }
حدیث نمبر: 21559
٢١٥٥٩ - حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد عن ابن (ميناء) (١) (أن) (٢) عبد العزيز بن مروان بعث إلى ابن عمر فقبل منه وبعث إلى عبد اللَّه بن (عياش) (٣) بن أبي ربيعة فلم يقبل منه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن میناء فرماتے ہیں کہ عبد العزیز بن مروان نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک ہدیہ بھیجا تو انہوں نے قبول کرلیا اور حضرت عبدا للہ بن عیاش کی طرف بھی ہدیہ بھیجا انہوں نے قبول نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 21560
٢١٥٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم عن أبي (مجلز) (١) قال: قال علي: لا بأس بجائزة (العمال) (٢)، إن له (معونة) (٣) ورزقا، (و) (٤) إنما أعطاك من طيب ماله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمال کے ہدیہ میں کوئی حرج نہیں، اس کی تجارت اور کام ہے وہ تمہیں اپنے پاکیزہ مال میں سے دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 21561
٢١٥٦١ - حدثنا جرير عن العلاء عن حماد عن إبراهيم قال: لو أتيتُ عاملا (فأجازني) (١) لقبلت منه، إنما هو بمنزلة بيت المال، يدخله الخبيث و (الطيب) (٢) ⦗٣٤٢⦘ وقال: إذا (أتاك) (٣) البريد في أمر معصية فلا خير في جائزته، وإذا أتاك بأمر ليس به بأس فلا بأس (بجائزته) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں اگر کسی عامل کے پاس جاؤں اور وہ مجھے کچھ تحائف دے تو میں اسے قبول کرلوں گا، وہ بیت المال کے درجے میں ہے جس میں اچھا برا ہر طرح کا مال آتا ہے، جب قاصد تمہارے پاس کسی معصیت والے کام کے لیے تحفہ لے کر آئے تو اس تحفے میں کوئی خیر نہیں لیکن اگر کسی جائز کام کے لیے تحفہ لائے تو اس تحفے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21562
٢١٥٦٢ - حدثنا وكيع قال: نا إسماعيل بن أبي خالد عن رجل لم يسمه (عن سعيد) (١) (بن) (٢) عامر بن (حذيم) (٣) أن عمر أجازه بألف دينار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن حذیم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ہزار دینار کا ہدیہ دیا۔
حدیث نمبر: 21563
٢١٥٦٣ - حدثنا أبو أسامة عن زهير قال: حدثني أشعث بن (أبي) (١) الشعثاء قال: خرجنا ثلاثين راكبًا علينا الأسود، (أمره) (٢) (بشر) (٣) بن (مروان) (٤)، (فأجازه) (٥) (بخمسين) (٦) دينارا فقبلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث بن ابی الشعثاء فرماتے ہیں کہ ہم تیس آدمیوں کی جماعت ایک سفر پر نکلی، ہمارے امیر حضرت اسود تھے جنہیں بشر بن مروان نے امیر بنایا تھا، بشر نے انہیں پچاس دینار دئیے جو انہوں نے قبول کرلیے۔