کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات غلام کی گواہی کو بہتر مانتے تھے
حدیث نمبر: 21490
٢١٤٩٠ - حدثنا حفص بن غياث عن المختار بن فلفل قال: (سألت) (١) أنسا ⦗٣٢١⦘ عن شهادة (العبيد) (٢) فقال: (جائزة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے غلام کی گواہی کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا یہ درست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21490
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21490، ترقيم محمد عوامة 20652)
حدیث نمبر: 21491
٢١٤٩١ - حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن عامر أن شريحا أجاز شهادة (العبد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح نے سے غلام کی گواہی کو درست قرار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21491
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21491، ترقيم محمد عوامة 20653)
حدیث نمبر: 21492
٢١٤٩٢ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يجيزونها في الشيء الطفيف] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف معمولی چیزوں میں غلام کی گواہی کو درست قرار دیتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21492
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21492، ترقيم محمد عوامة 20654)
حدیث نمبر: 21493
٢١٤٩٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمار الدهني قال: شهدت شريحا شهد عنده عبد على دار فأجا (ز) (١) شهادته فقيل (له) (٢): إنه عبد، (فقال) (٣): كلنا عبيد وأمنا حواء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمار دہنی فرماتے ہیں کہ میرے سامنے حضرت شریح کی عدالت میں ایک غلام نے کسی گھر کے بارے میں گواہی دی تو انہوں نے اس کی گواہی درست قرار دی، کسی نے کہا کہ یہ تو غلام ہے، انہوں نے فرمایا کہ ہم سب غلام ہیں اور ہم سب کی ماں حوا ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21493
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21493، ترقيم محمد عوامة 20655)
حدیث نمبر: 21494
٢١٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا حفص بن غيات عن أشعث (عن الشعبي) (١) قال: قال شريح: لا (نجيز) (٢) شهادة (العبيد) (٣) فقال علي: (لكنا) (٤) (نجيزها) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت شریح نے کہا کہ ہم تو غلام کی گواہی کو درست نہیں سمجھتے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم تو غلام کی گواہی کو درست سمجھتے تھے، اس کے بعد سے حضرت شریح غلام کی گواہی اس کے آقا کے علاوہ ہر ایک کے حق میں مانتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21494
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ أشعث ضعيف، والشعبي لم يدرك عليًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21494، ترقيم محمد عوامة 20656)
حدیث نمبر: 21495
٢١٤٩٥ - قال: فكان شريح (بعد) (١) يجيزها إلا (لسيده) (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21495
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21495، ترقيم محمد عوامة ---)