حدیث نمبر: 21481
٢١٤٨١ - حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم قال: سمعت الشعبي يقول: ليس الخلاص بشيء، من باع (مبيعا) (١) (فاستحق) (٢) (فهو) (٣) لصاحبه، وعلى البائع الثمن الذي أخذه به، [ليس عليه أكثر من ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ خلاص کوئی چیز نہیں، جس نے کوئی چیز بیچی اور پھر اس میں کوئی شریک نکل آیا تو بائع سے صرف وہ ثمن لی جائے گی جو ا سنے وصول کی تھی، زیادتی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 21482
٢١٤٨٢ - حدثنا أسباط بن محمد عن مطرف عن عامر (عن) (١) (شريح) (٢) قال: لا (يشترط) (٣)] (٤) الخلاص إلا أحمق، (سلم) (٥) كما (بعت أو اردد كما) (٦) أخذت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ خلاص کی شرط تو کوئی احمق ہی لگائے گا، یا تو مبیع کو اسی طرح واپس کردو جس طرح بھی تھی یا رکھ لو۔
حدیث نمبر: 21483
٢١٤٨٣ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء أنه كان لا يرى الخلاص شيئا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء کے نزدیک بھی خلاص کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21484
٢١٤٨٤ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن عثمان البتي عن الحسن أن عليًا كان (يحبس) (١) في (الخلاص) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان بتی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلاص کے لیے خیر کیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 21485
٢١٤٨٥ - حدثنا يحيى بن يعلى التيمي عن منصور عن الحكم عن علي أن رجلًا (ترك) (١) امرأته و (ابنا) (٢) له و (جارية) (٣) فباعت امرأته وابنه الجارية (فوطئها) (٤) الذي ابتاعها فولدت، ثم (جاء صاحب) (٥) الجارية فتعلق بها، (فخاصمه) (٦) إلى علي فقال علي: باعت امرأتك وابنك وقد ولدت من الرجل، سلم البيع، فقال الرجل: أنشدك (اللَّه) (٧) لما قضيت بكتاب اللَّه، فقال: خذ جاريتك وولدها، وقال (للآخر) (٨): خذ المرأة والابن بالخلاص، فلما (أخذ) (٩) سلم الآخر البيع (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی اور اپنے بیٹے کے لیے ایک باندی چھوڑی، اس کی بیوی اور بیٹے نے اس باندی کو فروخت کردیا، خریدار نے اس باندی کے ساتھ جماع کیا اور اس کی اولاد بھی ہوئی، اس کے بعد باندی کا مالک آگیا اور اس نے باندی کو حاصل کرنا چاہا، یہ مقدمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا کہ تیری باندی کو تیری بیوی اور تیرے بیٹے نے فروخت کردیا ہے، اور خریدار کا اس سے بچہ بھی ہوگیا ہے تم بیع کو باقی رکھو، اس نے کہا کہ میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ نہیں فرمایا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آدمی سے فرمایا کہ اپنی باندی اور اس کے بچے کو لے جاؤ، پھر آپ نے دوسرے آدمی سے فرمایا کہ عورت اور اس کے بیٹے سے خلاص لے لو، جب ان سے خلاص لے لیا گیا تو دوسرے آدمی نے بیع کو سپرد کردیا۔ ٭ حدیث نمبر ٢٠٦٤٧ سے خلاص کا معنی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو بیچ دے اور خریدنے والا اس کو استعمال کرنے لگے۔ پھر اس چیز میں کوئی حقدار نکل آئے تو بائع سے اس چیز کی اصل قیمت بھی لی جائے گی اور جھگڑے کو ختم کرنے کے لیے اضافی تاوان بھی وصول کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 21486
٢١٤٨٦ - حدثنا إسماعيل بن علية (عن سلمة) (١) بن علقمة عن ابن سيرين قال: كانت القضاة تقضي فيمن باع شيئا ليس له، فهو لصاحبه إذا طلبه (٢) هو (و) (٣) يؤخذ هذا (بالشروى) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ قاضی حضرات یہ فیصلہ کیا کرتے تھے کہ جو شخص کسی چیز کو فروخت کرے تو اس پر خلاص لازم نہیں، وہ اس کے صاحب کے لیے ہوگا جب وہ طلب کرے اور اسے مثل ہی لیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 21487
٢١٤٨٧ - حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب أن امرأة باعت دارًا لزوجها وهو غائب، فلما قدم (أبى) (١) أن يجيز البيع (فخاصمه) (٢) فيها إلى إياس بن معاوية فجعل المشتري يقول: أصلحك اللَّه! أنفقت (فيها ألفي) (٣) درهم، فقال: (٤) (ألفاك) (٥) عَليّ (ألفاك علي) (٦)، (قال) (٧): (فقضى) (٨) للرجل بداره، وأمر (بامرأته) (٩) إلى السجن، فلما رأى ذلك جوّز البيع.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند کی عدم موجودگی میں اس کا گھر بیچ دیا، جب وہ واپس آیا تو اس نے بیع کو جاری رکھنے سے انکار کردیا۔ مقدمہ حضرت ایاس بن معاویہ کی عدالت میں پیش کیا گیا تو مشتری نے یہ کہنا شروع کردیا کہ اللہ آپ کی اصلاح فرمائے کہ میں نے تو اس پر دو ہزار درہم خرچ کر دئیے ہیں، اس نے کہا کہ تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، تیرے دو ہزار مجھ پر لازم ہیں، حضرت ایاس نے مکان کا فیصلہ اس آدمی کے حق میں کردیا اور عورت کو جیل میں ڈالنے کا حکم دیا جب انہوں نے اس چیز کو دیکھا تو بیع کو جائز قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 21488
٢١٤٨٨ - حدثنا معاذ بن معاذ عن ابن عون عن محمد أنه كان يرى الخلاص شرطا (قويا) (١). وكان يشدد فيه.
مولانا محمد اویس سرور
محمد خلاص کو ایک قوی شرط خیال کرتے تھے اور اس میں سختی برتتے تھے۔
حدیث نمبر: 21489
٢١٤٨٩ - حدثنا الضحاك بن مخلد عن أشعث عن الحسن أنه كان لا يرى الخلاص شيئا.
مولانا محمد اویس سرور
حسن کے نزدیک خلاص کی کوئی شرعی حیثیت نہ تھی۔