حدیث نمبر: 21448
٢١٤٤٨ - حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد قال: كنت مع ابن عمر أمشي في السوق فإذا نحن بناس من (النخاسين) (١) قد اجتمعوا على جارية (يقلبونها) (٢)، فلما ⦗٣١٠⦘ رأوا (ابن عمر) (٣) تنحوا و (قالوا) (٤): ابن عمر قد جاء، فدنا منها ابن عمر فلمس شيئا من (جسدها) (٥) (و) (٦) (قال: أين) (٧) أصحاب هذه الجارية، (إنما) (٨) هي سلعة (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ غلام فروشوں کے ایک بازار سے گزرا۔ وہاں کچھ لوگ ایک باندی کے پاس کھڑے اس کا بوسہ لے رہے تھے۔ جب انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما آگئے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اس باندی کے پاس گئے اور اسے چھوا پھر فرمایا کہ اس باندی کے مالک کہاں ہیں یہ تو ایک سامان ہے۔
حدیث نمبر: 21449
٢١٤٤٩ - حدثنا علي بن مسهر عن عبيد اللَّه عن نافع عن (ابن) (١) عمر أنه كان إذا أراد أن يشتري (الجارية) (٢) وضع (يده) (٣) على أليتيها وبين (فخذيها) (٤) (و) (٥) ربما كشف عن ساقيها (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کوئی باندی خریدنے کا ارادہ کرتے تو اپنا ہاتھ اس کے جسم کے مختلف حصوں پر رکھتے اور بعض اوقات اس کی پنڈلی سے کپڑا اٹھاتے۔
حدیث نمبر: 21450
٢١٤٥٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عبيد المكتب عن إبراهيم عن رجل من أصحاب عبد اللَّه أنه قال: ما أبالي (مسستها) (١) أو (مسست) (٢) هذا الحائط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے لیے اسے چھونا اور اس دیوار کو چھونا ایک جیسا ہے۔
حدیث نمبر: 21451
٢١٤٥١ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه (بن) (١) حبيب عن أبي جعفر أنه (٢) ساوم بجارية فوضع يده على (ثدييها) (٣) وصدرها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر نے ایک باندی کا معاملہ کیا پھر اس کے سینے اور پستان کو ہاتھ لگایا۔
حدیث نمبر: 21452
٢١٤٥٢ - حدثنا ابن مبارك عن الأوزاعي قال: سمعت عطاء وسئل عن الجواري التي يبعن بمكة فكره النظر إليهن إلا لمن (يريد) (١) أن يشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مکہ میں فروخت کی جانے والی باندیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ انہیں دیکھنا صرف ان کے لیے جائز ہے جو خریدنا چاہتے ہوں۔
حدیث نمبر: 21453
٢١٤٥٣ - حدثنا أزهر السمان عن ابن عون قال: كان محمد إذا بعث إليه (بالجارية) (١) ينظر إليها كشف (٢) ساقيها وذراعيها.
مولانا محمد اویس سرور
محمد کو جب کوئی باندی دیکھنے کے لیے بھیجی جاتی تھی تو وہ صرف اس کی پنڈلیاں اور بازو دیکھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21454
٢١٤٥٤ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم أن صديقا له (أسود) (١) كتب (إليه) (٢) أن يشتري له جارية، ففعل فعاب شيئًا من ساق الجارية، قال: فبلغ ذلك الأسود من قوله فقال: ما أحب أني نظرت إلى ساقيها ولا (أنّ لي) (٣) كذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم کا ایک سیاہ فام دوست تھا۔ انہوں نے اسے لکھا کہ ان کے لیے ایک باندی خریدے اس نے باندی خریدی لیکن اس کی پنڈلی انہیں پسند نہ آئی۔ یہ بات اس دوست کو معلوم ہوئی توا س نے کہا کہ اس کی پنڈلی دیکھنا مجھے پسند نہ ہوا۔
حدیث نمبر: 21455
٢١٤٥٥ - حدثنا وكيع عن حماد بن سلمة عن حكيم الأثرم عن أبي تميمة عن أبي موسى أنه خطبهم فقال: لا أعلم رجلا اشترى جارية فنظر إلى ما دون ⦗٣١٢⦘ (الحاوية) (١) وإلى ما فوق الركبة إلا عاقبته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا جس میں فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوا کہ کسی شخص نے باندی خریدتے ہوئے اسے سینے سے نیچے یا گھٹنوں سے اوپر سے دیکھا ہے تو میں اسے سزا دوں گا۔