حدیث نمبر: 21406
٢١٤٠٦ - حدثنا سفيان بن عيينة عن إبراهيم عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: لا بأس ببيع من يزيد، (كذلك) (١) كانت تباع الأخماس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ نیلامی کی بیع میں کوئی حرج نہیں۔ اخماس کو اس طرح بیچا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 21407
٢١٤٠٧ - حدثنا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول أنه كره بيع من يزيد إلا الشركاء بينهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول نے نیلامی کی بیع کو مکروہ قرار دیا ہے البتہ شرکاء آپس میں کرسکتے ہیں۔
حدیث نمبر: 21408
٢١٤٠٨ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن (عمرو) (١) بن مهاجر أن عمر بن ⦗٣٠١⦘ عبد العزيز بعث (عميرة) (٢) بن (يزيد) (٣) الفلسطيني يبيع السبي فيمن يزيد، فلما (فرغ) (٤) جاءه فقال له عمر: كيف كان (البيع اليوم) (٥)؟ فقال: (إن) (٦) كان (كاسدا) (٧) يا أمير المؤمنين، لولا أني كنت أزيد عليهم فأُنفِّقه، (فقال) (٨) عمر: كنت تزيد (هـ) (٩) عليهم ولا (تريد) (١٠) أن تشتري؟ فقال: نعم! قال عمر: هذا (١١) النجش لا يحل، ابعث يا (عميرة) (١٢) مناديا ينادي ألا إن البيع مردود، (١٣) إن النجش لا يحل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن مہاجر کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے عمیرو بن یزید فلسطینی کو بھیجا تاکہ وہ قیدیوں کو نیلام کردیں۔ جب وہ فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ آج کی بیع کسی رہی ؟ انہوں نے فرمایا کہ اے امیر المؤمنین ! اگر میں خود بیچ میں جا کر بھاؤ نہ بڑھاتا تو آج مندا ہوجاتا۔ حضرت عمر نے ان سے پوچھا کہ کیا تم محض بھاؤ بڑھانے کے لیے خریدنے کے ارادے کے بغیر بولی لگاتے رہے ؟ انہوں نے اقرار کیا تو حضرت عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ نجش ہے یہ حلال نہیں، اے عمیرہ ! اعلان کرو دو کہ بیع مردود ہے اور نجش حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 21409
٢١٤٠٩ - حدثنا وكيع عن حزام بن هشام (الخزاعي) (١) عن أبيه قال: شهدت عمر بن الخطاب باع إبلا من إبل الصدقة فيمن يزيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام خزاعی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زکوٰۃ کے اونٹوں کو نیلام کر کے فروخت کیا۔
حدیث نمبر: 21410
٢١٤١٠ - حدثنا معتمر بن سليمان عن الأخضر بن عجلان عن أبي بكر الحنفي عن أنس بن مالك عن رجل من الأنصار أن رسول اللَّه ﷺ باع حلسًا وقدحًا فيمن يزيد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ایک انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ٹاٹ اور ایک پیالہ نیلامی کے ذریعے فروخت فرمایا۔
حدیث نمبر: 21411
٢١٤١١ - حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: لا بأس ببيع من يزيد: (إن تزيد) (١) في السوم إذا أردت أن (تشتري) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر خریدنے کا ارادہ ہو تو بولی لگا کر قیمت بڑھانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21412
٢١٤١٢ - حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحسن وابن سيرين أنهما كرها بيع من يزيد، إلا بيع المواريث والغنائم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت ابن سیرین نے مواریث اور غنیمتوں کے علاوہ بولی کی بیع کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 21413
٢١٤١٣ - حدثنا وكيع عن سفيان عمن سمع مجاهدا وعطاء قالا: لا بأس (ببيع) (١) من يزيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ بولی کی بیع میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21414
٢١٤١٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن حماد بن سلمة عن أبي جعفر (الخطمي) (١) عن المغيرة بن شعبة أنه باع المغانم فيمن يزيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر خطمی فرماتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے غنائم کو بولی کی بیع کے ساتھ بیچا۔