کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر گاہک کوئی چیز خرید لے اور وہ قبضے سے پہلے بائع کے پاس ہی ہلاک ہو جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21370
٢١٣٧٠ - حدثنا عباد بن العوام عن أشعث عن الحكم في (رجل) (١) اشترى من رجل متاعا (هلك) (٢) في يدي البائع قبل أن يقبضه قال: إن كان قال له: خذ متاعك. فلم يأخذه (فهو) (٣) من مال المشتري وإن كان قال: لا أدفعه لك حتى (تأتي) (٤) بالثمن فهو (من) (٥) مال البائع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی چیز خریدی اور وہ قبضے سے پہلے بائع کے پاس ہی ہلاک ہوگئی۔ اس صورت میں اگر بائع نے کہا تھا کہ اپنا سامان لے تو یہ نقصان گاہک کا ہوگا اور اگر بائع نے کہا تھا کہ میں تمہیں یہ اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم مجھے اس کی قیمت نہ لا دو تو یہ نقصان بائع کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 21371
٢١٣٧١ - حدثنا ابن أبي زائدة (عن) (١) داود قال: قلت لعامر: (رجل) (٢) اشترى (بزا) (٣) (إلى) (٤) أجل (فحبسه) (٥) و (عكمه) (٦) ووضعه في منزل البائع ولم (يحبسه) (٧) رهنا بالمال، (فاحترق المال) (٨) قال: من مال البائع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر سے سوال کیا کہ ایک آدمی نے کسی سے کوئی چیز خریدی اور اسے تیار کر کے بائع کے مکان میں ہی چھوڑ دیا اور اسے مال کا رہن تصور نہ کیا تو کیا حکم ہے اگر وہ مال جل جائے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ بائع کا نقصان ہوا۔
حدیث نمبر: 21372
٢١٣٧٢ - حدثنا ابن علية عن ابن عون عن إبراهيم قال: إذا اشترى الرجل المتاع فقال المشتري: (انقله إليَّ) (١) وقال البائع: لا، حتى (تأتيني) (٢) بالثمن فهذا بمنزلة الرهن، (إن) (٣) هلك فهو من مال البائع، وإن قال: البائع للمشتري: انقله، فقال: دعه حتى (نأتيك) (٤) بالثمن، فهذا بمنزلة الوديعة، إن هلك فهو من مال المشتري، ويبيع هذا ولا يبيع ذاك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی آدمی نے کوئی چیز خریدی اور مشتری نے کہا کہ اسے میرے حوالے کردو، بائع نے کہا کہ جب تک تم ثمن نہ لے آؤ میں تمہیں نہیں دوں گا۔ یہ معاملہ رہن کے درجہ میں ہوگا۔ اگر وہ ہلاک ہوا تو بائع کے مال میں سے ہوگا۔ اور اگر بائع نے مشتری سے کہا کہ اسے اپنے قبضے میں لے لو اور مشتری نے کہا کہ میں جب تک قیمت نہ لے آؤں اس وقت تک قبضہ نہ کروں گا تو یہ ودیعت کے حکم میں ہوگا۔ اگر ہلاک ہوا تو مشتری کے مال سے ہلاک ہوگا۔ ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے اس بات کا تذکرہ محمد سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے خیال میں انہوں نے سچ کہا۔
حدیث نمبر: 21373
٢١٣٧٣ - قال ابن عون: فذكرته لمحمد فقال: صدق، أظن.
حدیث نمبر: 21374
٢١٣٧٤ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن داود بن أبي هند أن رجلا ابتاع من رجل متاعا إلى أجل، و (حبسه) (١)، (فبيتهم) (٢) حريق من الليل (فأحرق) (٣) بعضه، فسألت الشعبي (فقال) (٤): هو (من) (٥) مال الذي (هو) (٦) (في) (٧) (يديه) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت داود بن ابی ہند کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے مقررہ مدت تک ادائیگی کی شرط پر کچھ مال خریدا اور اسے بائع کے پاس چھوڑ دیا۔ رات کو گھر میں آگ لگ گئی اور کچھ سامان جل گیا۔ اس بارے میں میں نے حضرت شعبی سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ جس کے قبضے میں تھا اسی کا نقصان ہوا۔