کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کرائے پر کوئی سواری لے پھر طے شدہ مقام سے آگے لے جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 21364
٢١٣٦٤ - حدثنا هشيم عن أبي حمزة عمران بن أبي عطاء قال: شهدت شريحا واختصم إليه رجلان (اكترى) (١) أحدهما من الآخر دابة إلى مكان معلوم فجاوز، (فضمنه) (٢) شريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عطاء فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح کے پاس حاضر تھا، ان کے پاس دو آدمی مقدمہ کے کر آئے کہ ایک آدمی نے دوسرے سے ایک سواری پر ایک خاص مقام تک کے لیے لی تھی، وہ اس سے آگے لے گیا، حضرت شریح نے سواری کے مالک کو ضمان دلوایا۔
حدیث نمبر: 21365
٢١٣٦٥ - حدثنا حفص بن غياث عن الحسن بن (عبيد اللَّه) (١) قال: سألت إبراهيم عن رجل تكارى دابة فجاوز بها. قال: هو ضامن، ولا كراء عليه فيما (خالف) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کوئی سواری کرائے پر لے اور مقررہ مقام سے آگے لے جائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ضامن ہوگا اور مخالفتِ معاملہ کی صورت میں اس پر کرایہ نہیں۔
حدیث نمبر: 21366
٢١٣٦٦ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أشعث عن الحكم قال: إذا سلمت الدابة اجتمع عليه الكراءان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ اگر سواری محفوظ رہے تو اس پر دو کرائے جمع ہوجائیں گے۔
حدیث نمبر: 21367
٢١٣٦٧ - حدثنا أبو أسامة قال: (نا) (١) ابن أبي زائدة قال: حدثني محمد بن عبد اللَّه الثقفي عن شريح أنه قضى في رجل استأجر من رجل دابة إلى (المردمة) (٢)، فجاوز (عليها) (٣) الوقت فعطبت فماتت، فجعل عليه الأجر إلى المكان الذي سمى وضمنه الدابة حين خالف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن عبید اللہ ثقفی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے بردمہ نامی مقام تک کے لیے ایک جانور کرائے پر لیا لیکن وہ اسے مقرر شدہ جگہ سے آگے لے گیا وہاں وہ جانور حادثے کا شکار ہو کر مرگیا۔ اس مقدمہ کا قاضی شریح نے یہ فیصلہ فرمایا کہ مقرر شدہ جگہ کا تو کرایہ دلوایا اور آگے بڑھنے پر جانور کا ضمان دلوایا۔
حدیث نمبر: 21368
٢١٣٦٨ - حدثنا محمد بن فضيل عن الحسن [بن] عبيد اللَّه عن إبراهيم قال: إذا تكارى الرجل الدابة إلى المكان كان له كراؤها فإن جاوز عليها (فنفقت) (١) كان له كراؤها الأول وعليه أن يضمنها.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی سواری کو ایک خاص علاقے تک کے لیے کرائے پر لیا تو اگر اس مقام سے تجاوز کیا اور اس کو نقصان پہنچا تو اس پر پہلا کرایہ ہوگا اور ضمان بھی ہوگا۔
حدیث نمبر: 21369
٢١٣٦٩ - حدثنا وكيع عن سفيان عن (أبي) (١) عون عن شريح في رجل (اكترى) (٢) دابة فجاوز الوقت، قال: يجمع عليه الكراء والضمان.
مولانا محمد اویس سرور
قاضی شریح فرماتے ہیں کہ اگر کرائے کے جانور مقرر مقام سے آگے لے جایا گیا تو کرایہ اور ضمان دونوں لازم ہوں گے۔