حدیث نمبر: 21342
٢١٣٤٢ - حدثنا عباد بن العوام، عن محمد بن إسحاق، عن نافع، عن ابن عمر قال: كان لا يرى بأسا بالكتابة على الوصفاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما خدمت کے غلام کے عوض مکاتبت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21343
٢١٣٤٣ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أيوب عن نافع أن حفصة كاتبت غلاما لها على وصفاء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو خدمت کے عوض مکاتب بنایا۔
حدیث نمبر: 21344
٢١٣٤٤ - (نا) (١) هشيم بن (بشير) (٢) عن عبد الحميد (بن) (٣) سوار قال: حدثتني (ختنة) (٤) لي يقال لها (سارة) (٥) مولاة لأبي برزة أن أبا برزة كاتب بعض (مماليكه) (٦) على رقيق (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ نے اپنے ایک غلام کو خدمت کے غلام کے عوض مکاتب بنایا۔
حدیث نمبر: 21345
٢١٣٤٥ - حدثنا هشيم وجرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس أن (يُكاتب) (١) عبد على الوصفاء. [زاد فيه جرير: (و) (٢) الوصائف] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ غلام کو خدمت کے غلاموں کے عوض مکاتب بنانے میں کوئی حر ج نہیں۔
حدیث نمبر: 21346
٢١٣٤٦ - [حدثنا وكيع عن سفيان عن عمار عن سعيد بن جبير قال: لا بأس (١) أن يكاتب عبد على الوصفاء] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ غلام کو خدمت کے غلاموں کے عوض مکاتب بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21347
٢١٣٤٧ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن وابن سيرين أنهما كانا (لا) (١) يريان به بأسًا أن يكاتب المكاتب على الوصفاء.
مولانا محمد اویس سرور
حسن و ابن سیرین دونوں حضرات خدمت کے غلاموں کے عوض غلام کو مکاتب بنانے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 21348
٢١٣٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عمار عن سعيد بن جبير قال: لا بأس بالكتابة على الوصفاء.
حدیث نمبر: 21349
٢١٣٤٩ - حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي قال: لا بأس أن يكاتب عبده على الوصفاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ غلام کو خدمت کے غلاموں کے عوض مکاتب بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21350
٢١٣٥٠ - حدثنا (ابن مبارك) (١) عن الأوزاعي عن عطاء عن ابن عباس أنه كان لا يرى بأسًا أن يكاتب الرجلُ مملوكه على الوصفاء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ خدمت کے غلاموں کے غلام کو مکاتب بنانے میں کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 21351
٢١٣٥١ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن عكرمة بن خالد المخزومي أن رجلًا كاتب عبده (على) (١) غلامين يصنعان مثل (صناعته) (٢) فارتفعا إلى عمر بن الخطاب فقال: إن لم يجئك بغلامين يصنعان مثل (صناعته) (٣) فرده إلى الرق (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ بن خالد مخزومی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنے غلام کو دو غلاموں کی خدمت پر مکاتب مقرر کیا وہ دونوں اسی کا پیشہ کرتے تھے۔ وہ دونوں ایک اپنا مقدمہ لے کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر وہ تیرے پاس ایسے غلام نہ لائے جو اس کا پیشہ جانتے ہوں تو اسے دوبارہ غلام بنا لے۔
حدیث نمبر: 21352
٢١٣٥٢ - حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: لا بأس أن يكاتب عبده على رقيق إلى (أجل) (١) مسمى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ ایک مقرر مدت تک غلام کے عوض اپنے غلام کو مکاتب بنانا ہے۔
حدیث نمبر: 21353
٢١٣٥٣ - حدثنا عبد الوهاب عن عطاء عن سعيد عن قتادة عن عمر بن عبد العزيز أنه كان لا يرى بأسًا بالكتابة [على الوصفاء، يد (ا) (١)] (٢) بيد ويكره ذلك (نسيئة) (٣)،
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز بغیر ادھار کے برابر برابر خدمت والے غلاموں کے عوض مکاتبت کو درست خیال کرتے تھے۔ حضرت قتادہ کی بھی یہی رائے تھی۔
حدیث نمبر: 21354
٢١٣٥٤ - وذلك رأي قتادة.
حدیث نمبر: 21355
٢١٣٥٥ - حدثنا وكيع قال: (نا) (١) حماد بن زيد عن (عبد اللَّه) (٢) بن أبي بكر بن أنس قال: هذه مكاتبة (سيرين) (٣) عندنا. هذا ما كاتب عليه أنس بن مالك غلامه، كاتبه على كذا وكذا (٤) ألف، وعلى غلامين (٥) (يعملان) (٦) مثل عمله (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ بن ابی بکر بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ ہمارے نزدیک سیرین کی مکاتبت ہے۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی ایسی ایک مکاتبت فرمائی۔ انہوں نے اپنے غلام کو ایک خاص مقدار ِ مال اور دو ایسے غلاموں کے عوض مکاتبت بنایا جو اس کا کام کرتے تھے۔