کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: ایک آدمی نے کسی سے غلے پر بیع سلم کی اور کچھ غلہ لے لیا اور کچھ راس المال واپس لے لیا جن حضرات کے نزدیک یہ درست ہے
حدیث نمبر: 21178
٢١١٧٨ - حدثنا (أبو بكر قال) (١): (حدثنا) (٢) أبو (الأحوص) سلام بن سليم عن عبد الأعلى عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: أتاه رجل فقال: إني أسلفت رجلا ألف درهم في طعام، فأخذت منه نصف (سلفي طعاما) (٣) فبعته بألف درهم، ثم أتاني فقال: (خذ بقية) (٤) رأس مالك: خمسمائة، فقال ابن عباس: ذلك المعروف وله أجران (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ میں نے ایک ہزار درہم پر ایک آدمی سے غلے کی وصولی کے لیے بیع سلم کی۔ میں نے اس سے غلہ کا آدھا حصہ لیا اور اسے ایک ہزار درہم کا بیچ دیا۔ پھر وہ میرے پاس آیا اور راس المال کا آدھا یعنی پانچ سو درہم مجھے واپس کر دئیے، یہ کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ معروف ہے اور اسے دو بدلے ملیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21178
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عبد الأعلى هو ابن عامر الثعلبي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21178، ترقيم محمد عوامة 20355)
حدیث نمبر: 21179
٢١١٧٩ - حدثنا جرير عن يزيد عن مجاهد وعطاء قالا: قال ابن عباس: ذلك المعروف (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ معروف ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21179
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف يزيد.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21179، ترقيم محمد عوامة 20356)
حدیث نمبر: 21180
٢١١٨٠ - حدثنا وكيع عن أبي مطرف الأسدي عن أبيه عن جده عن شريح أنه لم ير بأسًا يأخذ بعض سلمه وبعض رأس ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آدمی کچھ راس المال واپس لے لے اور کچھ بیع سلم کا سامان لے لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21180
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21180، ترقيم محمد عوامة 20357)
حدیث نمبر: 21181
٢١١٨١ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم (عن) (١) ابن الحنفية أنه لم (ير) (٢) (به) (٣) بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن حنفیہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21181
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21181، ترقيم محمد عوامة 20358)
حدیث نمبر: 21182
٢١١٨٢ - حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن نافع عن ابن عمر قال: لا بأس به (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21182
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جابر الجعفي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21182، ترقيم محمد عوامة 20359)
حدیث نمبر: 21183
٢١١٨٣ - حدثنا وكيع عن الربيع عن عطاء قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21183
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21183، ترقيم محمد عوامة 20360)
حدیث نمبر: 21184
٢١١٨٤ - حدثنا أبو [سعد] (١) محمد بن (ميسر) (٢) عن ابن جريج عن عمرو بن دينار عن أبي (الشعثاء) (٣) قال: إن أسلف مائة دينار في ألف (فرق) (٤) فلا بأس أن يأخذ منه خمسمائة فرق، ويكتب عليه خمسين دينارا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الشعشاء فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے سو دینار کے بدلے ایک ہزار فرق پر بیع سلم کی تو اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ پانچ سو فرق لے لے اور پانچ سو دینار واپس لے لے۔ (فرق ایک پیمانے کا نام ہے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21184
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21184، ترقيم محمد عوامة 20361)
حدیث نمبر: 21185
٢١١٨٥ - حدثنا وكيع (قال) (١): حدثنا شعبة عن الحكم عن ابن عباس قال: لا بأس به (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21185
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21185، ترقيم محمد عوامة 20362)
حدیث نمبر: 21186
٢١١٨٦ - [حدثنا وكيع (نا) (١) سفيان عن جعفر بن برقان عن رجل عن محمد ابن علي قال: لا بأس به] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21186
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21186، ترقيم محمد عوامة 20363)
حدیث نمبر: 21187
٢١١٨٧ - حدثنا عبد السلام بن حرب عن يزيد الدالاني عن موسى بن (أبجر) (١) ⦗٢٥٠⦘ عن حميد بن عبد الرحمن أن رجلا أسلم (دراهم) (٢) فأخذ بعضه حنطة وبعضه (دراهم) (٣) فقال: لا بأس، ذلك (المعروف) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے دراہم کے عوض کنیز پر بیع سلم کی اور پھر کچھ گندم لے لی اور باقی دراہم واپس لے لیے تو یہ معروف ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 21187
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21187، ترقيم محمد عوامة 20364)