حدیث نمبر: 21170
٢١١٧٠ - حدثنا (أبو بكر) (١) قال: نا هشيم عن أبي (حمزة) (٢) قال: قلت لابن عباس: (إن) (أبي) (٣) (رجل جلاب) (٤) يجلب الغنم، وإنه (ليشارك) (٥) ⦗٢٤٦⦘ اليهودي والنصراني؟ قال: (لا) (٦) (يشارك) (٧) يهوديًا ولا نصرانيًا ولا مجوسيًا، قال: قلت لم؟ قال: لأنهم يربون، والربا لا يحل (٨).
مولانا محمد اویس سرور
ابو حمزہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میرے والد بکریوں کے تاجر ہیں وہ بعض اوقات کسی یہودی یا عیسائی کو اپنا شریک بناتے ہیں، کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ کسی یہودی، عیسائی یا مجوسی کو شریک نہ بناؤ ۔ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ وہ سود کا لین دین کرتے ہیں حالانکہ سود حرام ہے۔
حدیث نمبر: 21171
٢١١٧١ - حدثنا جرير عن ليث (١) عن عطاء قال: لا (تشارك) (٢) (اليهود) (٣) و (النصارى) (٤)، ولا يمروا عليك في صلاتك، فإن فعلوا فهم مثل الكلب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ کسی یہودی یا عیسائی سے مشارکت نہ کرو، انہیں نماز میں اپنے آگے سے نہ گزرنے دو ، اگر یہ گذر جائیں تو یہ کتے کی طرح ہیں (یعنی نماز ٹوٹ جائے گی) ۔
حدیث نمبر: 21172
٢١١٧٢ - (حدثنا) (١) عبد اللَّه بن إدريس عن هشام عن الحسن أنه لم يكن يرى بأسًا بشركة اليهودي والنصراني: إذا كان المسلم هو الذي (يلي) (٢) الشراء والبيع.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر خریدو فروخت مسلمان خود کرتا ہو تو یہودی یا عیسائی کو شریک بنانے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21173
٢١١٧٣ - حدثنا هشيم عن سليمان (١) أبي محمد الناجي عن ابن سيرين قال: لا تعط (الذمي) (٢) (مالًا مضاربة، وخذ منه) (٣) مالًا مضاربة، فإذا مررت بأصحاب صدقة فأعلمهم أنه مال ذمي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ کسی ذمی کو مضاربت کے لیے مال نہ دو البتہ بطور مضاربت کے اس سے مال لے سکتے ہو۔ جب تم اس مال کے ساتھ زکوۃ وصول کرنے والوں کے پاس سے گذرو تو انہیں بتادو کہ یہ ذمی کا مال ہے۔
حدیث نمبر: 21174
٢١١٧٤ - حدثنا وكيع عن الحسن بن صالح عن ليث قال: كان عطاء وطاوس ومجاهد يكرهون شركة اليهودي والنصراني (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء ، طاوس اور مجاہد یہودی یا عیسائی سے مشارکت کو مکروہ قرار دیتے تھے الّا یہ کہ خریدو فروخت مسلمان کرے۔
حدیث نمبر: 21175
٢١١٧٥ - حدثنا (١) يزيد بن هارون عن (جويبر) (٢) عن (الضحاك) (٣) قال: لا تصلح مشاركة المشرك في حرث ولا بيع (يغيب) (٤) عليه؛ لأن المشرك يستحل في دينه الربا وثمن الخنرير.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ مشرک سے مشارکت کھیتی باڑی اور ایسے امور میں درست نہیں جن میں وہ غائب ہو کیونکہ مشرک کے دین میں سود اور خنزیر کی قیمت حلال ہے۔
حدیث نمبر: 21176
٢١١٧٦ - (حدثنا) (١) (زيد) (٢) بن (الحباب) (٣) عن حماد بن سلمة عن إياس بن معاوية قال: لا بأس بشركة اليهودي والنصراني إذا كنت تعمل بالمال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ایاس بن معاویہ فرماتے ہیں کہ اگر مال خود خرچ کرو تو یہودی یا عیسائی سے مشارکت کرسکتے ہو۔
حدیث نمبر: 21177
٢١١٧٧ - (حدثنا) (١) وكيع عن سفيان عن معمر عن رجل عن الحسن قال: خذ منهم مالا مضاربة، ولا (تدفعه) (٢) إليهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ذمیوں سے مضاربت کا مال لے سکتے ہو پر انہیں دے نہیں سکتے۔