کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کتوں کو مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 21098
٢١٠٩٨ - حدثنا علي بن مسهر عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن عائشة أن النبي ﷺ أمر بقتل الكلاب (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں جس کتے کو دیکھوں اسے مار دوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21098
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٢٥١٠٠)، وابن ماجة (٣٦٥١)، وإسحاق (١٠٨١)، والطحاوي (٤/ ٥٤)، وبنحوه مسلم (٢١٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21098، ترقيم محمد عوامة 20280)
حدیث نمبر: 21099
٢١٠٩٩ - حدثنا ابن نمير عن موسى بن عبيدة عن أبان بن صالح عن القعقاع (ابن) (١) حكيم عن (سلمى) (٢) أم رافع عن أبي رافع قال: أمرني رسول اللَّه ﷺ حين أصبح فلم أدع كلبًا إلا (قتلته) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رافع فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں جس کتے کو دیکھوں اسے مار دوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21099
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21099، ترقيم محمد عوامة 20281)
حدیث نمبر: 21100
٢١١٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو داود عن سفيان عن (١) إسماعيل بن أمية عن نافع عن ابن عمر أن النبي ﷺ أمر بقتل الكلاب، حتى قتلنا (كلب) (٢) امرأة جاءت ⦗٢٢٦⦘ به من البادية (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا، ہم نے کتے مارنے شروع کیے، یہاں تک ایک عورت جو گاؤں سے کتا لائی تھی، ہم نے اس کے کتے کو بھی مار دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21100
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٢٣)، ومسلم (١٥٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21100، ترقيم محمد عوامة 20282)
حدیث نمبر: 21101
٢١١٠١ - حدثنا شبابة عن شعبة عن أبي التياح قال: سمعت مطرفا يحدث عن ابن (المغفل) (١) أن (رسول) (٢) اللَّه ﷺ أمر بقتل الكلاب ثم قال: "ما لهم وللكلاب ثم رخص في كلب الصيد" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن مغفل فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ کتے لوگوں کے کس کام کے ؟ پھر آپ نے شکار کے کتے رکھنے کی اجازت دے دی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21101
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٧٣)، وأحمد (١٦٧٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21101، ترقيم محمد عوامة 20283)
حدیث نمبر: 21102
٢١١٠٢ - حدثنا شبابة عن ابن أبي ذئب عن الحارث عن غريب عن أسامة قال: دخلت على رسول اللَّه ﷺ (وعليه) (١) (الكآبة) (٢) فقلنا: ما لك يا رسول اللَّه؟ قال: "إن جبريل ﵇ وعدني أن يأتيني (٣) فلم يأتني منذ ثلاث" قال: " (فأجاز) (٤) كلب" قال أسامة: فوضعت يدي على رأسي، وصحت، فجعل النبي ﷺ يقول: "ما لك يا أسامة؟ " فقلت: (أجاز) (٥) كلب فأمر النبي ﷺ (بقتله) (٦) فقتل (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسامہ فرماتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ کچھ پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! خیریت تو ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ جبریل (علیہ السلام) نے میرے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ تین دن سے میرے پاس نہیں آئے۔ اتنے میں ایک کتا وہاں سے گذرا۔ میں نے اپنا ہاتھ اپنے سر پر رکھا اور میں چلایا۔ حضور ﷺ نے پوچھا اے اسامہ کیا ہوا ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک کتا گذرا ہے۔ حضور ﷺ نے اسے مارنے کا حکم دیا اور اسے مار دیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21102
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه أحمد (٢١٧٧٢)، والبزار (٢٥٩٠)، والطيالسي (٦٣٧)، والطحاوي (٤/ ٢٨٣)، والضياء (٤/ ١٣٤٧)، والطبراني (٣٨٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21102، ترقيم محمد عوامة 20284)
حدیث نمبر: 21103
٢١١٠٣ - حدثنا الثقفي عن يونس عن الحسن أن عثمان أمر بقتل الكلاب وذبح الحمام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عثمان نے کتوں کو مارنے اور کبوتر کو ذبح کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21103
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21103، ترقيم محمد عوامة 20285)
حدیث نمبر: 21104
٢١١٠٤ - حدثنا يونس بن محمد عن حماد بن سلمة عن أبي الزبير عن جابر أن النبي ﷺ أمر بقتل الكلاب، حتى أن المرأة كانت تدخل بالكلب فيقتل قبل أن (تخرج) (١) قال: لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها، فاقتلوا منها كل أسود (بهيم) (٢) (الذي) (٣) بين عينيه نقطتان، فإنه شيطان (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔ لوگوں نے اس حکم اس پابندی سے عمل کیا کہ اگر کوئی عورت شہر میں کتا لے کر آتی تو اس کے نکلنے سے پہلے کتے کو مار دیا جاتا تھا پھر حضور ﷺ نے فرمایا کہ اگر کتے اللہ کی پیدا کی ہوئی جماعت نہ ہوتے تو میں سب کو قتل کرنے کا حکم دے دیتا، لہٰذا تم صرف اس تیز کالے کتے کو قتل کرو جس کی آنکھوں کے درمیان دو نقطے ہوں کیونکہ یہ کتا شیطان ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21104
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢١١٧)، وأحمد (١٤٤٥٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21104، ترقيم محمد عوامة 20286)
حدیث نمبر: 21105
٢١١٠٥ - حدثنا أبو أسامة عن (عبيد اللَّه) (١) بن عمر (عن) (٢) نافع عن ابن عمر أن النبي ﷺ أمر بقتل الكلاب (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے کتوں کو مارنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصيد / حدیث: 21105
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٣٣٢٣)، ومسلم (١٥٧٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21105، ترقيم محمد عوامة 20287)