حدیث نمبر: 21019
٢١٠١٩ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن يحيى بن (سعيد عن محمد بن يحيى ⦗٢٠٤⦘ ابن) (١) (حبان) (٢) عن أبي (مرة) (٣) مولى عقيل بن أبي طالب قال: رجعت إلى أهلي وقد (كان) (٤) لهم شاة فإذا هي ميتة فذبحتها فتحركت فأتيت أبا هريرة فذكرت ذلك له فأمرني بأكلها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
ابو مرہ مولیٰ عقیل بن ابی طالب فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر آیا تو ان کے پاس ایک بکری تھی جو مری ہوئی محسوس ہو رہی تھی میں نے اسے ذبح کیا، تو اس نے حرکت کی، میں نے یہ ساری بات حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے مجھے وہ بکری کھانے کا حکم دیا۔ پھر میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ مردہ جانور بھی حرکت کرتا ہے۔
حدیث نمبر: 21020
٢١٠٢٠ - قال: ثم أتيت زيد بن ثابت فذكرت له (أمرها) (١) فقال: (إن) (٢) الميت يتحرك (٣).
حدیث نمبر: 21021
٢١٠٢١ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن أبي الزبير عن عبيد بن عمير في الذبيحة (قال) (١): إذا (مصعت) (٢) (بذنبها) (٣) أو (طرفت) (٤) أو تحركت فقد حلت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر ذبیحہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر وہ اپنی دم ہلائے یا آنکھ حرکت کرے تو وہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 21022
٢١٠٢٢ - حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه أنه لم ير بها بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 21023
٢١٠٢٣ - حدثنا عباد بن العوام عن حجاج عن (عطاء) (١) قال: [إذا ذكيت فحركت ذنبًا أو طرفًا أو رجلًا فهي (ذكية) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر ذبیحہ نے ذبح کے بعد دم ، آنکھ یا پاؤں ہلایا ہو تو وہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 21024
٢١٠٢٤ - [حدثنا عباد عن يونس عن الحسن في الذبيحة] (١): إذا ذكيت فحركت طرفًا أو رجلًا فهي (ذكاة) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر ذبیحہ نے اپنی آنکھ یا پاؤں ہلایا تو وہ حلال ہے۔
حدیث نمبر: 21025
٢١٠٢٥ - حدثنا ابن نمير عن الصباح بن ثابت قال: سألت عامر بن عبدة (١) عن بطة وقعت في بئر فأخرجوها وبها رمق فقال: اذبحوها وكلوها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صباح بن ثابت کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر بن عبدہ سے سوال کیا کہ ایک بطخ کنویں میں گرگئی تھی، لوگوں نے اسے نکالا تو اس میں زندگی کی رمق موجود تھی، اس کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے ذبح کر کے کھالو۔
حدیث نمبر: 21026
٢١٠٢٦ - حدثنا حفص عن جعفر عن أبيه عن علي قال: إذا طرفت بعينها أو (مصعت) (١) (بذنبها) (٢) أو ركضت برجلها فكل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ذبیحہ نے اپنی آنکھ، یا دم یا پاؤں ہلایا تو اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 21027
٢١٠٢٧ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن جويبر عن الضحاك قال: ما أدركت من ذلك يطرف (بعينه) (١) أو يحرك ذنبه، فذبح فهو حلال، وما ذبح (فلم) (٢) يطرف له عين ولم يتحرك له ذنب فهو حرام ميتة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ کسی جانور کو اگر تم اس حال میں ذبح کرو اور اس نے اپنی آنکھ یا دم ہلائی تھی تو وہ حلال ہے۔ اگر اس کو ذبح کیا گیا لیکن اس نے نہ اپنی آنکھ ہلائی نہ دم تو وہ مردار ہے اور حرام ہے۔
حدیث نمبر: 21028
٢١٠٢٨ - حدثنا ابن نمير عن أبي شهاب موسى بن نافع عن (النعمان) (١) بن علي قال: مرَّ سعيد بن جبير على نعامة (ملقاة) (٢) على (الكناسة) (٣)، (تحرك) (٤) فقال: ما (هذه؟) (٥) فقالوا: نخاف أن (تكون) (٦) موقوذة؟ فقال: كدتم تدعوها للشيطان، إنما الوقيذ ما مات في وقيذة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر ایک شتر مرغ کے پاس سے گذرے جسے کوڑے میں پھینکا گیا اور وہ حرکت کر رہا تھا۔ حضرت سعید بن جبیر نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اسے مردار سمجھ کر ڈال دیا۔ حضرت سعید نے فرمایا کہ اسے شیطان کے لیے کیوں چھوڑتے ہو۔ مردار تو وہ ہوتا ہے جو ساکن ہوجائے۔
حدیث نمبر: 21029
٢١٠٢٩ - حدثنا معتمر عن أبيه عن أبي (مجلز) (١) قال: كانوا (يرجون) (٢) في المنخنقة والموقوذة والمتردية إلا ما ذكيتم، ثم حرم اللَّه (ذلك) (٣) كله (إلا ما ذكى) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ اسلاف قرآن مجید کی آیت (الّا ما ذکیتم) کو گلا گھونٹے ہوئے، مردار اور گر کر ہلاک ہونے والے جانور سے استثناء مانتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ذبح کردہ کے علاوہ ہر ایک چیز کو حرام قرار دے دیا۔