کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر پالتو جانور جیسے اونٹ گائے وغیرہ وحشی ہو جائیں تو ان کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20960
٢٠٩٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن خالد عن عكرمة قال: قال ابن عباس: ما أعجزك مما في يدك فهو بمنزلة الصيد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو جانور تمہارے قابو میں نہ آئیں وہ شکار کی طرح ہیں۔
حدیث نمبر: 20961
٢٠٩٦١ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن (علية) (١) عن ليث عن طاوس قال: إذا (ند) (٢) من الإبل والبقر شيء فاصنعوا به كما تصنعون بالوحش.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ اگر اونٹ یا گائے وغیرہ تمہارے قابو سے باہر ہوجائیں تو ان کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو جنگلی جانوروں کے ساتھ کرتے ہو۔
حدیث نمبر: 20962
٢٠٩٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (وكيع عن) (١) قرة عن الضحاك في بقرة (شردت) (٢) قال: هي بمنزلة الصيد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی گائے وحشی ہوجائے تو وہ شکار کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 20963
٢٠٩٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن حبيب أن بعيرا ند فطعنه رجل بالرمح فسئل علي عنه فقال: كله [(أهدى له) (١) (عجزه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک اونٹ وحشی ہوگیا تو ایک آدمی نے اسے نیزہ مار دیا۔ اس بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے کھالو اور (پھر از راہ مزاح فرمایا کہ) اس کے پچھلے حصہ کا گوشت مجھے بھی ہدیہ کرو۔
حدیث نمبر: 20964
٢٠٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن أشعث] (١) عن الحكم وحماد عن إبراهيم والشعبي أنهما قالا: إذا توحش البعير (أو البقرة) (٢) صنع بهما ما يصنع (بالوحشية) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ اگر اونٹ یا گائے وحشی ہوجائیں تو ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جو وحشی جانور کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20965
٢٠٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور ابراہیم فرماتے ہیں کہ ایسا جانور شکار کی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 20966
٢٠٩٦٦ - وعن أبي معشر عن إبراهيم قالا: هو بمنزلة الصيد.
حدیث نمبر: 20967
٢٠٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عبد الكريم عن زياد (بن) (١) أبي مريم أن حمارًا وحشيًا استعصى على أهله (فضربوا) (٢) عنقه فسئل (ابن) (٣) مسعود فقال: تلك أسرع الذكاة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابی مریم فرماتے ہیں کہ ایک حمار وحشی اپنے عیال کے قابو سے باہر ہوگیا، انہوں نے اس کی گردن پر تلوار مار دی۔ پھر اس بارے میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ جلدی ذبح ہونے والا ہے۔
حدیث نمبر: 20968
٢٠٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: كان حمار وحش (في دار) (١) (عبد اللَّه) (٢) فضرب رجل عنقه بالسيف وذكر اسم اللَّه عليه فقال ابن مسعود: صيد فكلوه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں ایک حمار وحشی ہوگیا۔ ایک آدمی نے اس کی گردن پر بسم اللہ پڑھ کر تلوار ماری تو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ شکار ہے اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 20969
٢٠٩٦٩ - [حدثنا أبو بكر قال: نا عبيدة عن منصور عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه بمثله أو نحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20970
٢٠٩٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة أن حمارًا لأهل عبد اللَّه (ضرب رجلٌ عنقه بالسيف فسئل عبد اللَّه) (١) فقال: كلوه! (إنما) (٢) هو (صيد) (٣)] (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کے گھر میں ایک حمار کو وحشی ہونے پر ایک آدمی نے اس کی گردن میں تلوار ماری۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسے کھالو یہ شکار ہے۔
حدیث نمبر: 20971
٢٠٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن جعفر عن أبيه أن (ثورًا) (١) (حرث) (٢) في بعض دور المدينة (فضربه) (٣) رجل بالسيف وذو اسم اللَّه (عليه) (٤) فسئل عنه (علي) (٥) فقال: ذكاة (وحيّة) (٦) وأمرهم بأكله (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ مدینہ کے ایک گھر میں ایک بیل وحشی ہوگیا ایک آدمی نے بسم اللہ پڑھ کر اس کو تلوار ماری۔ اس بارے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ وہ حلال اور پاکیزہ ہے اور اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 20972
٢٠٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم بن سليمان عن سفيان عن أبيه عن عباية بن رفاعة عن جده رافع بن خديج قال: كنا مع النبي ﷺ (١) [فند بعير فضربه رجل بالسيف، فذُكر (ذلك) (٢) للنبي ﵇] (٣) فقال: "إن هذه البهائم لها أوابد كأوابد الوحش، فما (٤) (غلبكم) (٥) منها فاصنعوا (به) (٦) هكذا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اتنے میں ایک اونٹ سرکش ہوگیا۔ ایک آدمی نے اسے تلوار مار دی۔ اس بات کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ پالتو جانوروحشی جانوروں کی طرح بعض اوقات سرکش اور بےقابو ہوجاتے ہیں جو جانور تمہارے بس سے باہر ہوجائیں ان کے ساتھ یونہی کرو۔