کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: وہ مچھلی جو سمندر میں مر جائے اور خراب ہو جائے اس کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20920
٢٠٩٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن أيوب عن أبي الزبير عن جابر قال: ما مات (فيه) (١) (فطفأ) (٢) فلا تأكل (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ جو مچھلی سمندر میں مرجائے اور خراب ہوجائے اسے مت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 20921
٢٠٩٢١ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية و (عبدة) (١) بن سليمان عن ابن ⦗١٧٦⦘ أبي عروبة عن قتادة (عن الحسن و) (٢) سعيد بن المسيب أنهما كرها الطافي من السمك] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت سعید بن مسیب نے سمندر میں مر کر خراب ہونے والی مچھلی کو مکروہ قرار دیا ہے۔
حدیث نمبر: 20922
٢٠٩٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن علية عن خالد بن محمد قال: كان لا يكره من السمك شيئًا إلا الطافي منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن محمد صرف اس مچھلی کو مکروہ قرار دیتے تھے جو سمندر میں مر کر خراب ہوجائے۔
حدیث نمبر: 20923
٢٠٩٢٣ - [حدثنا أبو بكر قال: نا ابن عيينة عن عمرو عن أبي الشعثاء قال: يكره الطافي منه، وكل ما جزره] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الشعشاء سمندر میں مر کر ہلاک ہونے والی مچھلی کو مکروہ قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو تازہ مری ہو اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 20924
٢٠٩٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا علي بن (مسهر) (١) عن الأجلح عن عبد اللَّه بن أبي الهذيل قال: سأل رجل ابن عباس فقال: إني آتي (إلى) (٢) البحر، فأجده قد (جفل) (٣) سمكا كثيرا فقال: كل ما لم تر سمكًا طافيًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن ابی ہذیل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں سمندر کے کنارے پر بہت سی مچھلیوں کو گرا ہو ادیکھتا ہوں، ان کا کیا حکم ہے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جو مچھلی خراب نہ ہو اسے کھالو۔
حدیث نمبر: 20925
٢٠٩٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن (جعفر) (١) عن أبيه قال: قال علي (٢): ما مات في البحر فإنه ميتة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو جانور سمندر میں مرجائے وہ مردار ہے۔
حدیث نمبر: 20926
٢٠٩٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن ابن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم أنه كره من السمك ما يموت في الماء، إلا أن يتخذ الرجل (حظيرة) (١) فما دخل فيها فمات فلم ير (بأكله) (٢) بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم نے سمندر میں مرنے والی مچھلی کو مکروہ قرار دیا اور فرمایا کہ اگر کوئی مچھلی آدمی کے جا ل میں پھنس کرمرے تو وہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 20927
٢٠٩٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه في الحوت يوجد في البحر ميتا فنهى عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاوس نے اس مچھلی کے کھانے سے منع کیا جو مردار حالت میں سمندر میں پائی جائے۔
حدیث نمبر: 20928
٢٠٩٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كره الطافي منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ سمندر میں مر کر خراب ہونے والی مچھلی کھانا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 20929
٢٠٩٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن (حسن عن) (١) مغيرة عن إبراهيم أنه كره الطافي.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ سمندر میں مر کر خراب ہونے والی مچھلی کھانا مکروہ ہے۔