کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی بھی آدمی شکار کو تیر مارے اور اس کا عضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 20868
٢٠٨٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأعمش عن زيد بن وهب قال: سئل ابن مسعود عن رجل ضرب (رِجْلَ) (١) حمار (وحش) (٢) (فقطعها) (٣) فقال: دعوا ما سقط، وذكوا ما بقي فكلوه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شکار حمار وحشی کے پاؤں پر وار کر کے اس کا پاؤں کاٹ دے تو کیا حکم ہے ؟ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو حصہ کٹ گیا ہے اسے پھینک دو اور باقی جانور کو ذبح کر کے کھالو۔
حدیث نمبر: 20869
٢٠٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص بن غياث عن حجاج عن حصين عن الشعبي عن الحارث عن علي قال: إذا ضرب الصيد فبان عضو لم يأكل ما (أبان) (١) وأكل ما بقي (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شکار پر وار کرے اور اس کا کوئی عضو کٹ جائے تو کٹے ہوئے عضو کو نہ کھائے باقی کو کھالے۔
حدیث نمبر: 20870
٢٠٨٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو بكر بن عياش عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: إذا ضرب الرجل الصيد فبان عضو منه ترك ما سقط وأكل ما بقي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص شکار پر وار کرے اور اس کا کوئی عضو الگ ہوجائے تو وہ گرے ہوئے عضو کو چھوڑ دے اور باقی ماندہ کو کھالے۔
حدیث نمبر: 20871
٢٠٨٧١ - حدثنا أبو بكر قال: نا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن حصين عن الشعبي عن الحارث عن علي قال: يدع ما أبان، ويأكل ما بقي، (فإن جزله جزلًا) (١) (فليأكله كله) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے عضو کو چھوڑ دے اور باقی کو کھالے اگر اسے بری طرح پھاڑ کے رکھ دے تو پھر بھی کھالو۔
حدیث نمبر: 20872
٢٠٨٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا (أبو) (١) خالد الأحمر عن حجاج عن ابن أبي نجيح عن مجاهد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے بھی یہی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 20873
٢٠٨٧٣ - و (عن) (١) حجاج عن عطاءمثله.
حدیث نمبر: 20874
٢٠٨٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: إذا أبان منه عضوا ترك ما أبان وذكى ما بقي، وإن (جزله) (١) بأثنين أكله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر شکار سے کوئی عضو الگ ہوجائے تو اسے چھوڑ دے اور باقی کو ذبح کر کے کھالے، اگر وار نے اسے دو ٹکڑے کردیا ہو تو پھر بھی کھالے۔
حدیث نمبر: 20875
٢٠٨٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن في رجل ضرب صيدًا فأبان منه يدا أو رجلا، وهو حي ثم مات، قال: يأكله ولا يأكل ما (أبان) (١) منه إلا أن يضربه فيقطعه فيموت من (ساعته) (٢)، فإذا إن ذلك فليأكله كله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ اگر آدمی نے کسی شکار کو تیر مارا اور اس کا ہاتھ یا پاؤں توڑ دیا جبکہ جانور زندہ تھا، پھر وہ مرگیا تو اسے کھالے اور اس کے کٹے ہوئے حصے کو نہ کھائے۔ البتہ اگر اس نے اتنا شدید وار کیا کہ اس عضو کے کٹتے ہی مرگیا تو اس صورت میں سارا ہی کھالے۔
حدیث نمبر: 20876
٢٠٨٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبد الرحيم عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم في الرجل يضرب الصيد بالشيء فيبين منه الشيء ويتحامل ما كان فيه الرأس قال: لا يأكل ما (بأن) (١) منه، وإن (وقعا) (٢) جميعًا أكله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شکاری شکار کو کوئی چیز مارے جس سے اس کا عضو ہی الگ ہوجائے تو یہ اس سر والے حصے کو اٹھائے اور باقی حصے کو نہ کھائے، اگر اس کا جسم دو ٹکڑے ہوگیا تو پھر اسے کھالے۔
حدیث نمبر: 20877
٢٠٨٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن الربيع عن الحسن وعطاء (قالا) (١): ⦗١٦٦⦘ إذا ضرب الصيد فسقط (منه) (٢) عضو فلا (يأكله) (٣)، يعني العضو.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر شکار پر وار کیا اور اس کا کوئی عضو کاٹ دیا تو اس عضو کو نہ کھائے۔