٢٠٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا (بشير) (١) بن (سلمان) (٢) عن عكرمة عن ابن عباس قال: إني أحب (٣) (أن) (٤) أتزين للمرأة كما أحب أن ⦗٥٠٦⦘ (تتزين) (٥) لي المرأة؛ لأن اللَّه (تعالى) (٦) يقول: ﴿وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ (و) (٧) ما [أحب أن (استنطف) (٨) حقي عليها؛ لأن اللَّه تعالى يقول: ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ [البقرة: ٢٢٨] (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں عورت کے لیے خوبصورت بنوں جس طرح مجھے یہ بات پسند ہے کہ وہ میرے لئے خوبصورتی اختیار کرے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کے لئے بھی وہ حقوق ہیں جو ان پر ذمہ داریاں ہیں۔ اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ میں اس سے اپنا حق پورا پورا لوں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مردوں کا عورتوں پر ایک درجہ ہے۔
٢٠٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا سفيان عن زيد بن أسلم وَ ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ قال: إمارة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن اسلم رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { وَلِلرِّجَالِ عَلَیْہِنَّ دَرَجَۃٌ} کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حکم چلانا ہے۔
٢٠٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا أزهر عن ابن عون عن محمد: ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾، قال: لا أعلم إلا أن لهن مثل الذي عليهن، إذا (عرفن) (١) (تلك) (٢) الدرجة.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { للرجال علیھن درجۃ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادسوائے اس کے میں کچھ نہیں جانتا کہ جو عورتوں کے فرائض ہیں وہی مردوں کے بھی فرائض ہیں۔ جب وہ اس درجہ کو پہچان لیں۔
٢٠٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبيد اللَّه عن إسرائيل عن السدي عن أبي مالك: ﴿وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾، قال: يطلقها وليس لها من الأمر شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { للرجال علیھن درجۃ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مرادیہ ہے کہ وہ اس کو طلاق دے سکتا ہے لیکن عورت کے ہاتھ میں طلاق کا اختیار نہیں ہے۔
٢٠٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا شبابة عن ورقاء عن ابن أبي نجيح عن مجاهد: (﴿(وَ) (١) لِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ﴾ للرجال عليهن درجة) قال: فضل اللَّه، ما فضله اللَّه ⦗٥٠٧⦘ به عليها من الجهاد وفضل ميراثه على ميراثها (وكل) (٢) ما فضل به عليها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید کی آیت { للرجال علیھن درجۃ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد اللہ کا فضل ہے جو اللہ تعالیٰ نے مرد کو جہاد، میراث اور دوسرے احکامات میں عطا کیا ہے۔