٢٠٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: أشهد أن النبي ﷺ قد طلق (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دی تھی۔
٢٠٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: نا (وكيع قال: حدثنا) (١) إسرائيل عن جابر عن أبي جعفر قال: طلق النبي ﷺ امرأتين: إحداهما من بني عامر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو عورتوں کو طلا ق دی، جن میں سے ایک بنو عامر سے تھی۔
٢٠٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع (عن) (١) إسرائيل عن جابر (عن مجاهد) (٢) قال: لم يكن النبى يطلق، إنما كان (يعتزل) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق نہیں دی تھی۔ آپ نے محض عزلت اختیار فرمائی تھی۔
٢٠٣٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا (وكيع قال: حدثنا) (١) هشام عن أبيه عن عمر أنه تزوج امرأة من بني (مخزوم) (٢) عاقرًا (فطلقها) (٣) ثم قال: ما آتى النساء على لذة، (فلولا) (٤) الولد ما أردتهن (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بنو مخزوم کی ایک بانجھ عورت سے شادی کی پھر اسے طلاق دے دی۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں عورتوں سے لذت کے حصول کے لئے ہم بستری نہیں کرتا اگر اولاد نہ ہوتی تو میں عورتوں کے پاس نہ پھٹکتا۔
٢٠٣٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع (قال: نا أبو هلال) (١) عن قتادة أن عمر تزوج امرأة فإذا هي شمطاء فطلقها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے شادی کی، وہ بانجھ نکلی تو آپ نے اسے طلاق دے دی۔
٢٠٣٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا (وكيع قال) (١): نا إسماعيل بن أبي خالد عن قيس (٢) بن أبي حازم قال: طلق خالد بن الوليد امرأته فقال: أما إني لم أطلقها من ⦗٥٠٢⦘ أمر ساءني، ولكن لم يصبها عندي (بلاء) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر فرمایا کہ میں نے اسے کسی برائی کی وجہ سے طلاق نہیں دے۔ بلکہ اسے میرے پاس کوئی آزمائش نہیں پہنچی۔
٢٠٣٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع قال: نا موسى بن عبيدة عن محمد بن كعب (القرظي) (١) وعبد اللَّه بن عبيدة وعمر بن الحكم (أن) (٢) النبي ﷺ تزوج امرأة من بني (الجون) (٣)، فطلقها وهي (التي) (٤) استعاذت منه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن کعب، حضرت عبد اللہ بن عبیدہ رحمہ اللہ اور حضرت عمر بن حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ نے بنو جون کی ایک عورت سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی۔ یہ وہی عورت تھی جس نے حضور ﷺ سے پناہ مانگی تھی۔