کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک شخص اپنی بیوی کو اعلانیہ طلاق دے اورپھر رجوع کرلے لیکن عورت کو رجوع کا علم نہ ہو اور وہ شادی کرلے تو کیا حکم ہے؟
١٩٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الحكم أن أبا (كَنَف) (١) طلق امرأته (ولم يعلمها) (٢)، (فأشهد) (٣) (على) (٤) رجعتها، قال: فقال (له) (٥) عمر: إن أدركتها قبل أن (تتزوج) (٦) فأنت أحق بها (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو اطلاع دیئے بغیر طلاق دی اور پھر اطلاع دیئے بغیر رجوع کرلیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم اس کے شادی کرنے سے پہلے اسے پالو تو تم ہی اس کے حقدار ہو۔
١٩٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن شعبة عن الحكم قال: قال علي: إذا طلقها ثم أشهد على رجعتها فهي امرأته أعلمها أو لم يعلمها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر رجوع پر کسی کو گواہ بنا لے تو وہ اپنی بیوی کا زیادہ حقدار ہے اس کا اعلان کرے یا نہ کرے۔
١٩٩٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن فضيل (عن مطرف) (١) عن الشعبي عن عمير بن يزيد قال: كنت قاعدًا عند شريح، فجاء رجل يخاصم امرأة (فقالت) (٢): طلقني ولم يعلمني الرجعة حتى مضت عدتي، وتزوجت ودخل بي زوجي فقال شريح: ألا أعلمتها الرجعة كما أعلمتها الطلاق؟ فلم يردها عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمیر بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی اپنی بیوی کا جھگڑا لے کرآیا۔ عورت کہتی تھی کہ اس نے مجھے طلاق دی، لیکن رجوع کا نہ بتایا، یہاں تک کہ میری عدت گزر گئی اور میں نے شادی کرلی۔ میرے خاوند نے مجھ سے دخول بھی کرلیا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس آدمی سے کہا کہ جیسے تم نے اسے طلاق کا بتایا تھا رجوع کا کیوں نہ بتایا ؟ ! پھر آپ نے عورت اسے واپس نہ کی۔
١٩٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا حفص عن ابن جريج عن عمرو عن جابر بن زيد قال: إذا طلقها ثم (١) لم يخبرها بالرجعة حتى تنقضي العدة، فتزوجت، فدخل بها الزوج الثاني فلا شيء له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اسے رجوع کی اطلاع نہ دی یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی اور اس نے شادی کرلی اور دوسرے خاوند نے اس سے دخول بھی کرلیا تو پہلے کو کچھ نہیں ملے گا۔
١٩٩٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن عبد الملك عن عطاء في رجل طلق امرأته ثم راجعها، فكتمها الرجعة حتى انقضت عدتها، قال: إن (أدركها) (١) قبل أن (تتزوج) (٢) فهو أحق بها، وإلا (فهو ضيّع) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس سے رجوع کرلیا لیکن رجوع کو خفیہ رکھا یہاں تک کہ عورت کی عدت گزر گئی۔ تو اگر عورت کے نکاح کرنے سے پہلے اس نے عورت کو پالیا تو وہ اسکی بیوی ہوگی اور اگر عورت نے شادی کرلی تو اس کی رجوع ضائع ہوگئی۔
٢٠٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن أبي معشر عن إبراهيم أن أبا (كنف) (١) طلق امرأته ثم سافر وراجعها وكتب إليها بذلك وأشهد على ذلك فلم (يبلغها) (٢) الكتاب حتى انقضت العدة فتزوجت المرأة فركب إلى عمر فقص عليه القصة فقال: أنت أحق بها ما لم يدخل بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوکنف رحمہ اللہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر سفر پر چلے گئے اور بیوی سے رجوع کرلیا۔ اس کی طرف خط بھی لکھا اور اس رجوع پر گواہ بھی بنا لئے۔ عورت کو ان کا خط نہیں ملا اور عدت کے پورا ہونے پر اس نے شادی کرلی۔ ابو کنف رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ عرض کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم اس عورت کے اس وقت تک زیادہ حقدار ہو جب تک وہ اس سے دخول نہ کرلے۔
٢٠٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة (عن) (١) سعيد عن (عمر) (٢) بن عامر عن حماد عن إبراهيم أن عليًا كان يقول: هو أحق بها، دُخل بها أو ⦗٣٩٨⦘ لم يدخل (بها) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ اس صورت میں پہلا خاوند زیادہ حقدار ہے خواہ دوسرادخول کرے یا نہ کرے۔
٢٠٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: نا عبدة عن سعيد عن عمر عن حماد عن إبراهيم أنه كان يرى ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ کی رائے بھی یہی تھی۔
٢٠٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: نا محمد بن بشر قال: (نا) (١) إسماعيل قال: سمعت الحكم بن (عتيبة) (٢) يذكر عن أبي كنف أنه طلق امرأته ثم راجعها ولم يعلمها الرجعة فتزوجت فركب في ذلك إلى عمر فقال: ارجع، إن وجدتها لم (يأتها) (٣) زوجها الذي نكحت فهي امرأتك، فرجع (فلم) (٤) يجدها أتت زوجها فقبضها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر ان سے رجوع کرلیا لیکن رجوع کی اطلاع انہیں نہ دی۔ پھر ان کی بیوی نے شادی کرلی۔ ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ اور اگر ان کا خاوند ان کے قریب نہیں گیا تو وہ تمہاری بیوی ہے۔ وہ گئے اور دیکھا کہ ان کے خاوند ابھی ان کے قریب نہ گئے تھے۔ لہٰذا ابو کنف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حاصل کرلیا۔
٢٠٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا حماد بن خالد عن بن أبي ذئب عن الزهري عن سعيد بن المسيب في رجل طلق امرأته [ثم بعث إليها بالرجعة فلم تأتها الرجعة حتى تزوجت قال: بانت منه، وإن (أدركتها) (١) الرجعة] (٢) قبل أن تزوج فهي امرأته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دی پھر اسے رجوع کا پیغام بھیجا۔ لیکن رجوع کا پیغام ملنے سے پہلے وہ شادی کرچکی تھی تو وہ عورت بائنہ ہوجائے گی اور اگر شادی کرنے سے پہلے رجوع کا پیغام ملا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی۔
٢٠٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن (عمرو) (١) عن جابر بن زيد قال: إذا (رجع) (٢) في نفسه فليس بشيء (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دل میں رجوع کرنے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔